جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیاں دینے اور جج صاحبان کی توہین کے الزام میں گرفتار آغا افتخار الدین مرزا نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کیس میں اپنا دفاع کریں گے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین کی سماعت روکنے کی استدعا مسترد کر دی، ملزم نے درخواست کی تھی کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے تک عدالت عظمیٰ ان کے خلاف کارروائی روک دے۔
دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ صرف توہین عدالت کا ہے، اگر آپ معافی ناموں کے باوجود صحت جرم سے انکاری ہیں تو آپکی مرضی ہے۔
آغا افتخار کے وکیل نے کہا کہ ایک ہی ویڈیو کی بنیاد پر دونوں مقدمات بنے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ویڈیو میں 4 قوانین پامال کئے تو ہر ادارہ حرکت میں آئے گا، ہر ادارہ مروجہ طریقے سے اپنے قانون کا اطلاق کرے گا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سائبر کرائم اور دہشتگردی کے قوانین کا توہین عدالت سے تعلق نہیں، ہر جرم کے ٹرائل کا طریقہ، شواہد اور سزا الگ ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ اپنے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ سے گواہان اور شواہد طلب کر لیے
عدالت نے ایف آئی اے سے پیشرفت رپورٹ طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔