اکسائی چن کے علاقہ میں چین کی پیپلزلبریشن آرمی نے مزید فوجیں اور اسلحہ بھیج دیا ہے جبکہ بھارت نے میزائل فائر کرنے والے ٹی 90 ٹینک علاقے میں بھجوا دیے ہیں۔
سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی فوجیں سردیوں کا سرد ترین موسم اسی علاقے میں گزارنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

بھارت نے دولت بیگ اولڈی کے علاقے میں ٹینکوں کے ساتھ ساتھ آرمرڈ گاڑیاں اور ایک مکمل بریگیڈ (4 ہزار فوجی) بھجوا دیا ہے تاکہ لداخ کے علاقے میں شکسگام قراقرم درے سے چینی فوجی کے داخلے کو روکا جا سکے۔
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی نقل و حرکت میں تیزی آئی ہے اور چین نے اکسائی چن کے علاقے میں 50 ہزار فوجی بھجوا دیے ہیں۔
روسی خبررساں ایجنسی سپوتنک کے مطابق سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبت کے علاقے میں فوجیوں کی بڑی تعداد جمع ہو چکی ہے، چینی افواج تبت کے علاقے شی کوان ہی میں جمع ہو رہی ہیں جہاں ہیلی پیڈ تیار کیا جا رہا ہے۔
اس وقت تک چینی افواج ڈیسپانگ وادی میں بھارت کے زیر قبضہ علاقے میں 8 کلومیٹر اندر تک پہنچ چکی ہیں اور انہیں واپس بھیجنے کے لیے تمام مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔