پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رہے گی۔
پب جی بلاک کرنے کے حوالے سے اپنے تفصیلی آرڈر میں پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ پابندی 9 جولائی کو ہونے والی سماعت کے بعد اور پی ای سی اے 2016 کی دفعات کے مطابق ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق لگائی گئی ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس گیم پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ نہیں دیا بلکہ پی ٹی اے کے یکم جولائی کے حکم نامے کی تفصیلات جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی طرف سے پب جی کے وکلاء سمیت متعلقہ فریقین کو سماعت کا موقع فراہم کیا گیا۔
پی ٹی اے نے اہم خدشات دور کرنے سے متعلق موزوں فریم ورک کےحوالے سے مطلع کرنے کے لیے پب جی انتظامیہ سے رابطہ کیا مگر انہوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انہیں والدین اور شہریوں کی جانب سے 109 شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد پب جی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
میاد رہے کہ یکم جولائی سے پی ٹی اے کی جانب سے پب جی پر پابندی عائد ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی اے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا اور اس گیم سے پابندی ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
ٹویٹر پر پاکستان میں آج دن بھر ‘عمران خان پب جی کھولو’ کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا، صارفین نے پی ٹی اے کی جانب سے پب جی پر پابندی پر شدید تنقید کی ہے۔
صارفین نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیم سے پابندی ہٹانے کا حکم جاری کریں۔