سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کی کمی اور زیرالتوا ریفرنسز کے متعلق کیس کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ نیب مقدمات میں تاخیر کا آغاز قومی احتساب بیورو کے دفتر سے ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب افسران میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ انکوائریوں اور تفتیش کا عمل جلد مکمل کر سکیں، نقائص سے بھرپور انکوائریوں اور تفتیش کی بنیاد پر ریفرنس بنا دیا جاتا ہے۔
اپنے حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ غلطیوں اور نقائص سے بھرپور ریفرنسز عدالتوں میں چل نہیں پاتے، نیب ریفرنسز میں متعلقہ مواد اور قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے کے سبب تاخیر ہوتی ہے۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ ریفرنسز عدالتوں میں بھیجنے سے پہلے چیئرمین نیب مکمل جانچ پڑتال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام مواد ریفرنس کے ساتھ ہو تاکہ ملزمان کو سزا ہو سکے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ قانون بنانے والوں نے نیب ریفرنس پر 30 دنوں میں فیصلہ کرنے کا قانون بنایا، قانون سازی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ نیب عدالتیں فیصلہ ہی نہ کر پائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نیب عدالت بھیجے گئے ریفرنس پر 30 دنوں میں فیصلہ جاری کرنا یقینی بنائے، نیب افسران اور پراسیکیوٹرز میں صلاحیتوں کا فقدان ہے۔
عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب افسران اور پراسیکیوٹرز میں صلاحیتوں کے فقدان کا معاملہ خود دیکھیں اور اگر وہ سمجھتےہیں کہ ان کی قانونی ٹیم باصلاحیت نہیں تو اسے تبدیل کردیں۔
عدالت نے چیئرمین نیب کو افسران اور پراسیکیوٹرز کی صلاحیتوں سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
