جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک مرتبہ پھر متحرک ہو چکے ہیں، گزشتہ روز انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی تھی اور آج پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں مڈٹرم انتخابات یا ان ہاؤس تبدیلی کے متعلق فیصلہ کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی یا اے پی سی میں جو بھی فیصلہ ہو گا، اپوزیشن اس پر عمل کرے گی، حزب اختلاف کو جلد از جلد عوام کی امیدوں کے مدنظر مسائل کا حل نکالنا چاہیئے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو جانا ہو گا۔
پریس کانفرس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی مشاورت کے بعد ایجنڈا طے کرے گی اور پھر اے پی سی اس حوالے سے حکمت عملی مرتب کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، وہ عوام کو واپس ملنا چاہیئے، ہم اس حکومت کو نہ ہی جائز سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کی اہلیت کو مانتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ یہ ملکی تاریخ کی بدترین حکومت ہے، اس سے جان چھڑائی جائے گی۔