• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ترک پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پر پابندیوں کا متنازعہ قانون منظور کر لیا

by sohail
جولائی 29, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ترکی کی پارلیمنٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد حکومت کو سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا، بہت سے حلقے اسے سنسر شپ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

نئے قانون کے تحت فیس بک اور ٹویٹر سمیت دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے دفاتر ترکی میں کھولنا پڑیں گے تاکہ ان کے پلیٹ فارم پر موجود مواد کے خلاف شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔

قانون کے مطابق اگر کوئی کمپنی اپنا ذیلی دفتر ترکی میں کھولنے سے انکار کرتی ہے تو اس پر جرمانہ، اشتہارات پر پابندی اور بینڈ وڈتھ میں کمی جیسے اقدامات کیے جا سکیں گے۔

عدالتی حکم کے تحت پہلے مرحلے پر بینڈ وڈتھ میں 50 فیصد کمی اور بعد ازاں 90 فیصد کمی کی جا سکے گی جس کے باعث اس پلیٹ فارم کو کھولنے کی رفتار انتہائی سست پڑ جائے گی۔

ترک پارلینٹ کے منظور شدہ قانون میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کا ذیلی دفتر پرائیویسی اور انفرادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کو 48 گھنٹوں میں ہٹا دے گا یا پھر اسے نہ ہٹانے کی وجوہات بتائے گا۔

اگر 24 گھنٹوں میں مواد نہ ہٹایا گیا تو کمپنی پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، کمپنی کو صارفین کا ڈیٹا بھی ترکی میں موجود دفتر میں رکھنا ہو گا۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد سائبر کرائمز کا مقابلہ کرنا اور صارفین کا تحفظ ہے، خواتین کے خلاف توہین آمیز مواد اور دھمکیوں کو روکنا بھی اس میں شامل ہے۔

حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی اس قانون پر معترض ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے آزادی اظہار پر مزید پابندیاں عائد ہو جائیں گی، میڈیا پہلے ہی حکومتی کنٹرول میں جا چکا ہے اور درجنوں صحافی جیل جا چکے ہیں۔

صدر طبیب اردوان نے اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے باعث سوشل میڈیا کو کنٹرول کر کے غیر اخلاقی مواد کو ہٹایا جا سکے گا۔

دی فریڈم آف ایکسپریشن کے مطابق اب تک ترکی میں 4 لاکھ 8 ہزار ویب سائیٹس بلاک کی جا چکی ہیں۔ وکی پیڈیا جیسی ویب سائیٹ بھی 3 سال بلاک رہنے کے بعد عدالتی حکم پر کھولی گئی تھی۔

Tags: ترکی میں اظہار رائے پر پابندیاںترکی میں سوشل میڈیا پر پابندیاں
sohail

sohail

Next Post

رواں برس حج کا خطبہ شیخ عبداللہ المنیع دیں گے

عمراکمل کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی کے خلاف اپیل کا فیصلہ سنا دیا گیا

تانیہ ایدروس، ڈاکٹر ظفر مرزا اپنے عہدوں سے مستعفی

پیٹرولیم مصنوعات میں ساڑھے 9 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز

آنے والے چار پانچ مہینوں میں وزیراعظم بڑے فیصلے کرنے والے ہیں، فواد چوہدری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In