باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کے بعد وزیراعظم عمران خان کے مزید مشیروں کے استعفے سامنے آ سکتے ہیں، ان کی جگہ منتخب اراکین کو وزاررت کے قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم تمام وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں، ناقص کار کردگی دکھانے والے وزیروں سے بھی استعفیٰ لیا جا سکتا ہے یا انہیں غیراہم وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔
آنے والے چار پانچ مہینوں میں وزیراعظم بڑے فیصلے کرنے والے ہیں، فواد چوہدری
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم ان وزراء پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جن کی کارکردگی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنی اور اس پر تنقید کی گئی۔
جن معاملات پر اپوزیشن کو تنقید کا موقع ملا اور عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، ان میں پٹرول، آٹا، چینی اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ سرفہرست ہے۔
یاد رہے کہ کابینہ کے تالاب میں دو استعفوں کے پتھر پہلے ہی پھینکے جا چکے ہیں، تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق تانیہ ایدروس کی این جی او کا معاملہ تھا جبکہ ڈاکٹر ظفر مرزا کا ادویات کے مہنگا ہونے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ آنے والے چار پانچ ماہ میں وزیراعظم بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں، اس سے قبل عمران خان خود وزراء کو بتا چکے ہیں کہ ہمارے پاس 6 ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں ہے۔