• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا کے کم ہوتے کیسز، کیا ممبئی ہرڈ ایمونٹی حاصل کر چکا ہے؟

by sohail
اگست 2, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایک تحقیق کے مطابق ممبئی کی کچی آبادیوں میں ہر 10 میں سے 6 افراد کورونا سے بیمار ہو کر صحتیاب ہو گئے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے بڑی ہرڈ ایمونٹی جنم لے رہی ہے۔

بھارت کے مالی مرکز ممبئی کی 3 کچی آبادیوں کے 6 ہزار 936 افراد کا سروے کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ اس وقت جبکہ بھارت کے دیگر علاقوں میں وائرس مکمل آزادی کے ساتھ پھیل رہا ہے، ممبئی کے گنجان آباد علاقوں میں اس کی شرح کم ہو رہی ہے۔

بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال

بھارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپڈیمالوجی کے ڈاکٹر جے پرکاش ملییل کا کہنا ہے کہ ممبئی کی کچی آبادیاں ممکنہ طور پر ہرڈ ایمونٹی حاصل کر چکے ہیں، اس لیے ممبئی کے لوگ اگر وائرس سے بچنے کے لیے ایک محفوظ جگہ کی تلاش میں ہیں تو انہیں ان علاقوں میں جانا چاہیئے۔

یاد رہے کہ بھارت میں کورونا وبا کا پھیلاؤ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اس تحقیق کے مطابق وبا کا پھیلاؤ روکنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ممبئی کے غریب ترین علاقوں نے انجانے پن میں ہرڈ ایمونٹی حاصل کر لی ہے۔

ہرڈ ایمونٹی کا تصور بہت متنازعہ ہے جس کے مطابق وائرس کو آبادی میں تیزی سے پھیلنے دینا چاہیئے تاکہ زیادہ تر لوگ اس کا شکار ہو کر صحتیاب ہو جائیں اور وائرس کے خلاف قوت مدافعت حاصل کر لیں۔

اس سروے کے دوران ممبئی کی جن کچی آبادیوں میں جن لوگوں کے ٹیسٹ لیے گئے ان میں داہیسر، چیمبور اور ماتنگا شامل ہیں اور ان افراد میں سے 57 فیصد کے جسم میں اینٹی باڈیز پائی گئیں۔

اپریل میں نیویارک میں بھی ایسا ہی سروے کیا گیا تھا جس میں 21 فیصد افراد کے جسم میں اینٹی باڈیز موجود تھیں جبکہ اسٹاک ہوم میں مئی میں کیے گئے سروے میں یہ شرح 14 فیصد تھی۔

ہرڈ ایمونٹی کے تصور پر سائنسی کمیونٹی نے بہت تنقید کی ہے کیونکہ اس تصور کو اپنانے کی وجہ سے سویڈن میں اپنے ہمسائیہ ممالک کی نسبت زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں لیکن ممبئی میں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہاں وائرس کو بھگانے کے بجائے بڑی عمر کے افراد کی جان بچانے کی کوشش ہونی چاہیئے۔

ممبئی کا کچی بستیوں پر مشتمل سب سے بڑے علاقے دھراوی کا رقبہ اتنا ہی ہے جتنا نیویارک کے سنٹرل پارک کا جبکہ اس کی آبادی سان فرانسسکو کے برابر ہے۔

یہاں تقریباً 80 لوگ ایک ہی پبلک ٹوائلٹ شیئر کرتے ہیں اور 100 اسکوائر فٹ کے کمرے میں اوسطاً 10 افراد قیام پذیر ہیں۔ اس لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ناممکن ہے اور یہ وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سب سے موزوں جگہ ہے۔

اس کے باوجود گزشتہ کئی ہفتوں سے ان علاقوں میں وائرس کے مریضوں کی تعداد میں حیرت انگیز کمی آئی ہے۔ اس کا بہت سا کریڈٹ صحت سے متعلقہ حکام کو بھی دیا جاتا ہے جنہوں نے ایک ایک گھر جا کر لوگوں کی اسکریننگ کی اور قرنطینہ کے مراکز تیزی سے کھڑے کیے۔

تاہم وبا کے پھیلاؤ میں کمی کی اصل وجہ اور ہو سکتی ہے، ڈاکٹر جے پرکاش کہتے ہیں کہ اگرچہ حکام نے بہترین کام کیا تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ کچی آبادیوں نے ہرڈ ایمونٹی حاصل کر لی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس آپ کے قرنطینہ کی پروا نہیں کرتا اور وہ حکومت کی تمام تر کاوشوں کے مقابلے میں پھیلنے کی کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین وبا کہتے ہیں کہ اگر آبادی کا 60 فیصد حصہ وبا سے متاثر ہو جائے تو ہرڈ ایمونٹی حاصل ہو جاتی ہے، ممبئی میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ نئے کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ جب جولائی میں ممبئی کے ان علاقوں کا سروے کیا گیا جہاں سماجی فاصلہ رکھنا ممکن ہے تو وہاں آبادی کے 16 فیصد افراد میں اینٹی باڈیز پائی گئیں۔

بشکریہ لائیومنٹ ڈاٹ کام

Tags: بھارت میں‌ کورونا وائرسممبئی کی کچی بستیاںممبئی میں ہرڈ ایمونٹیہرڈ ایمیونٹی
sohail

sohail

Next Post

آصف زرداری نے 5 سالہ پابندی ختم کرائی تھی، شعیب اختر کا انکشاف

2200 سال قبل چین میں دہری شہریت کا مسئلہ

کورونا وبا کے دوران بھارت میں صحافیوں کو نشانہ بنانے پر امریکہ کا اظہار تشویش

مجھے کوئی پسند نہیں کرتا، صدر ٹرمپ کا پریس بریفنگ میں شکوہ

امریکہ میں کورونا کا غیر معمولی پھیلاؤ نئے مرحلے میں داخل ہو گیا، ماہرین کا انتباہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In