• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

نیوزی لینڈ میں طویل فاصلے تک وائرلیس بجلی مہیا کرنے کی تیاریاں شروع

by sohail
اگست 3, 2020
in انتخاب, پاکستان, ٹیکنالوجی, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

نیوزی لینڈ میں تجارتی بنیادوں پر طویل فاصلے تک تاروں کے بغیر بجلی مہیا کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

ایمراڈ کمپنی نے نیوزی لینڈ کے دوسرے بڑے بجلی مہیا کرنے والے ادارے کو تجارتی بنیادوں پر وائرلیس بجلی مہیا کرنے کے لیے آزمائشی تجربے پر تیار کر لیا ہے۔

پاورکو نیوزی لینڈ میں بجلی مہیا کرنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے اور اس نے وائرلیس کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کے لیے ایمراڈ کمپنی کو سرمایہ مہیا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی کی بھاری مقدار دو ایسے پوائنٹس کے درمیان منتقل کی جا سکتی ہے جنہیں انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکے، ایسے مسلسل پوائنٹس کو ایک دوسرے سے بغیر کسی تار کے منسلک کر کے طویل فاصلے تک بجلی مہیا کی جا سکے گی۔

پاورکو کے نیٹ ورک ٹرانسفارمیشن مینیجر نکولس وسیوٹ کا کہنا ہے کہ ہم یہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کیا ایمراڈ کمپنی ہمارے مروجہ طریق کار کے ذریعے بجلی منتقل کر سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہم اس اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دوردراز کے یا مشکل سرزمین والےعلاقوں میں بجلی فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں، اسی طرح جب ہم روایتی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال پر کام کر رہے ہوں گے تو اس متبادل ذریعے سے بجلی فراہم کر سکیں گے۔

ایمراڈ کمپنی نے اس آلہ کا ایک ورکنگ نمونہ بنایا ہوا ہے مگر پاورکو کے لیے وہ الگ سے اسے بنائیں گے جو اکتوبر تک مکمل ہو جائے گا اور اس کے بعد کئی ماہ کی لیب ٹیسٹنگ کے بعد اس کی حقیقی میدان میں آزمائش کی جائے گی۔

ایمراڈ کمپنی کے بانی گریگ کشنر نے کہا ہے کہ اس وقت موجود نمونہ چند کلو واٹ بجلی کچھ کلومیٹرز تک منتقل کر سکتا ہے مگر اس کی استعداد 100 گنا تک بڑھائی جا سکتی ہے جو طویل فاصلوں تک بجلی مہیا کر سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ وائرلیس ٹیکنالوجی کے ذریعے اتنی ہی بجلی منتقل کی جا سکتی ہے جتنی تاروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی میں ایک انٹینا سے مائیکروویو لہریں بھیجی جاتی ہے ہیں جنہیں دوسری جگہ موجود انٹینا کے ذریعے بجلی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، اس میں وہی فریکوئنسی استعمال ہوتی ہے جو وائی فائی اور بلو ٹوتھ میں کام کرتی ہے۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو بجلی کی منتقلی کا یہ سستا ترین ذریعہ ثابت ہو گا کیونکہ اس کی وجہ سے تاروں اور دیگر بھاری انفراسٹرکچر سے نجات مل جائے گی۔

ایمراڈ کا دعویٰ ہے کہ بارش، دھند اور دھول میں بھی یہ پوری طرح کام کر سکتا ہے اور اس کے ذریعے ہزاروں کلومیٹرز تک بجلی کی بھاری مقدار منتقل کی جا سکتی ہے۔

Tags: وائرلیس بجلی
sohail

sohail

Next Post

بچپن کے کھلونے اور مریخ کا سفر

نوازشریف 5 سال حکومت کو تنگ نہ کرنے کی شرط پر بیرون ملک گئے ہیں، شیخ رشید

سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داران کو نہیں چھوڑیں گے، چیف جسٹس

حکومت کا بڑا اقدام، وفاقی کابینہ سے صحافیوں کے تحفظ کا بل منظور

مالی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد اسپین کے سابق بادشاہ ملک چھوڑنے پر مجبور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In