اسپین کے سابق بادشاہ جان کارلوس اول نے مالی اسکینڈل کے بعد ملک چھوڑ کر کسی نامعلوم ملک میں منتقل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
شاہی خاندان کی ویب سائیٹ پر شائع اپنے بیٹے شاہ فلپ ششم کے نام خط میں انہوں نے کہا ہے کہ میں اسپین سے باہر جانے کے اپنے سوچے سمجھے فیصلے کے متعلق آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میری نجی زندگی کے مخصوص واقعات کی عوامی سطح پر بازگشت کے باعث یہ فیصلہ لیا گیا ہے، میں اپنے بیٹے کا کردار مشکل نہیں بنانا چاہتا، میرا وقار اور میری وراثت تقاضا کرتے ہیں کہ مجھے ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
جان کارلوس کے حالیہ مقام کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
رواں سال کے ابتدا میں سپریم کورٹ نے تحقیق کا آغاز کیا ہے جس کے بعد میڈیا نے ایک سوئس تفتیش کار نے ایسے شواہد پیش کیے ہیں جن کے مطابق سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ عبداللہ نے جان کارلوس کو مبینہ طور پر لاکھوں ڈالرز دیے تھے۔
جان کارلوس نے بعد ازاں ایک سابق ساتھی کے اکاؤنٹ میں یہ بھاری رقم منتقل کر دی تھی، تفتیش کار اسے حکام سے رقم چھپانے کی ممکنہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ان کی یہ ساتھی کورینا لارسن تھیں جو ڈنمارک اور جرمنی کی کاروباری خاتون ہیں اور ان کا سابق بادشاہ سے تعلق کے متعلق اسپین کے میڈیا میں ایک عرصے سے چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں۔
اسپین کے وزیراعظم بیڈرو سانشیز نے حال ہی میں کہا تھا کہ جان کارلوس کے متعلق تحقیقات میں حالیہ پیش رفت نے انہیں پریشان کر دیا ہے۔
82 سالہ سابق شاہ اسپین نے 1975 میں ڈکٹیٹر فرانسسکو فرانکو کی موت کے بعد ملک میں جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔