لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگارہ کے علاقے میں 2 زوردار دھماکے ہوئے ہیں جن میں 100 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنانی فوج کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق حکومت نے یہاں دھماکہ خیز اسلحہ اور بارود رکھا ہوا تھا، وزیر صحت حماد حسن کا کہنا ہے کہ 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3700 زخمی ہوئے ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے اس گودام میں ہوئے جہاں 2750 ٹن ایمونیم نائٹریٹ رکھا ہواتھا۔
اسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صرف رزق اسپتال میں اس وقت تک 400 زخمی آ چکے ہیں۔
ایک سیاسی جماعت، خطیب، کے سیکرٹری جنرل نذر نجارائن ان دھماکوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، ریاست کی بجلی کی کمپنی کے سربراہ کمال ہائیک شدید زخمیوں میں شامل ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں سے مکان، بالکونیاں اور کھڑکیوں کے شیشے تباہ ہو گئے ہیں جبکہ بندرگاہ کا بڑا علاقہ ان کی زد میں آیا ہے۔
دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھوئیں کا ایک بادل نمودار ہوا اور پھر ایک اور دھماکہ ہوا جس کی شدت اتنی تھی کہ محفوظ فاصلے سے ویڈیو بنانے والے بھی اس کے باعث گر گئے۔
حکام کے مطابق عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے لیکن بندرگاہ کے علاقے میں درجنوں لوگ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔
ایک عینی شاہد نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد لوگ چیخ چلا رہے تھے اور بھاگ رہے تھے، عمارتوں کی بالکونیاں ٹوٹ کر نیچے گر گئی تھیں اور گاڑیاں تباہ ہو چکی تھیں۔