امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق فوجی جنرلز نے انہیں بتایا ہے کہ لبنان میں ہونے والا دھماکہ ایک خوفناک حملہ نظر آتا ہے اور ممکنہ طور پر کسی بم کے ذریعے کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز نے ٹرمپ سے سوال کیا تھا کہ جب لبنانی حکام کہہ رہے ہیں کہ دھماکے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا تو آپ نے اسے حملہ کیوں کہا؟
انہوں نے جواب میں کہا کہ میں اپنے عظیم جنرلز میں سے چند ایک سے ملا ہوں اور ان کا خیال ہے کہ یہ ایک ممکنہ حملہ نظر آتا ہے اور اس میں کسی قسم کا بم استعمال کیا گیا ہے۔
انہوں نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعزیت کی اور کہا کہ امریکہ اس موقع پر لبنان کی مدد د کرنے کے لیے تیار ہے۔
پنٹاگون کے ترجمان نے اس حوالے سے کسی قسم کے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سوال وائٹ ہاؤس سے پوچھا جائے۔
بیروت میں ہونے والے دھماکے میں 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 4 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
دھماکے کے بعد آگ کا ایک دریا نمودار ہوا جس نے بیروت کی بندرگاہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ابھی تک بہت سے افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے اس گودام میں ہوئے جہاں 2750 ٹن ایمونیم نائٹریٹ رکھا ہواتھا۔