نیب افسر بن کر فراڈ کرنے والے ملزم محمد ندیم عباسی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نیب تقرریوں پر برہم ہوگئے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کی تقرری اور اہلیت پر سوال بھی اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اب جج نہیں ہیں، انھیں ہم عدالت بلا سکتے ہیں، عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کراپنا ایجنڈا چلا رہا ہے، چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کر کے کیسے بھرتیاں کر سکتے ہیں
جسٹس عیسیٰ نے عرفان منگی سے ان کی تعلیم اور تنخواہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں انجینئر ہوں، میری تنخواہ 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں جس پر عرفان منگی نے کہا کہ میرا فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے، انہوں نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیب کے تمام ڈائرکٹر جنرلز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔
دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ محمد ندیم مڈل پاس ہے بہاولپور سے وہ کیسے نیب افسر بن کر کال کرتا تھا؟ ملزم نے ایم ڈی پی ایس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی۔
انہوں نے کہا کہ مڈل پاس ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے، اس کے پاس بڑے بڑے افسران کے موبائل نمبرز کیسے آ گئے؟
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مخلتف شکایات ملیں جس کے بعد ایم ڈی پی ایس او نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔
عدالت نے درست معاونت نہ کرنے پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی اور نیب پراسیکوٹر عمران الحق کی سخت سرزنش کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مارشل لا میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، ہمیں اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر کا خوف ہوتا ہے، مارشل لا سے بہتر ہے دوبارہ انگریزوں کو حکومت دے دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیب عوام کے پیسے سے چلتا ہے، سب عوام کے نوکر ہیں، ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، ہم نیب کا میڈیا ٹرائل نہیں کر رہے، ویسے بھی میڈیا والے آج کشمیر واک پر گئے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت مواقع دیے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، نیب افسران کی نااہلی کیوجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، لوگوں کو ڈرانے کیلئے نیب کا نام ہی کافی ہے۔
اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم اپنا کام قانون کے مطابق کرتے ہیں، لگتا ہے ہمیں نیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی، 1999 سے اب تک کوئی رولز اینڈ ریگولیشنز بنائے ہی نہیں گئے۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ابھی تک کسی گواہ کا ابتدائی بیان ہی نہیں لیا گیا، ہم سب ریاست کے ملازم ہیں، ہم سب نے ملکر قانون کی عملداری میں حائل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی