سینیر صحافی مطیع اللہ جان کے اغواء کے متعلق آئی جی اسلام آباد نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وزارت دفاع، آئی بی سمیت دیگر حکومتی ایجنسیوں سے معاونت کی درخواست کی گئی مگر ابھی تک کسی محکمے نے جواب نہیں دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ کی جیو فنسنگ رپورٹ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوئی، موبائل کال ڈیٹا کے لیے موقعہ کے دن ہی متعلقہ محکمے کو لکھ دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کا ریکارڈ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوا جبکہ جائے بازیابی سے آنکھوں کی کالی پٹی، ٹیپ برآمد کر لیے گئے تاہم پٹی اور منہ پر باندھی گئی ٹیپ کی فرانزک رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نادرا نے فوٹیج میں موجود اغوا کاروں کی شناخت کے متعلق کوئی جواب نہیں دیا، معاملے کی ایس آئی ٹی نے تفتیش کی ہے، اس پر جے آئی ٹی بنائی جائے گی۔
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 بھی شامل کر لی گئی جبکہ ملزمان کی تلاش اور شناخت کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ تمام اضلاع کی پولیس اور ایف آئی اے کو خط لکھا گیا کہ کیا مطیع اللہ جان انھیں کسی مقدمے میں مطلوب تھے جنہوں نے جواب میں کہا ہے کہ وہ کسی مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں۔