انسان ہزاروں برس سے اپنی عمر بڑھانے اور موت کو دور رکھنے کی خواہش دل میں پال رہا ہے، جدید دور میں پہلی بار اس حوالے سے کئی راز افشا ہو رہے ہیں۔
سائنسدان انسان کی عمر میں غیرمعمولی اضافہ کرنے کے لیے مسلسل ریسرچ میں مصروف ہیں، اس تحقیق کے نتیجے میں ‘اے ایم پی کے’ نامی اینزائم سامنے آیا ہے جسے ماہرین ‘جادوئی گولی کی پروٹین’ کا نام دیتے ہیں۔
یہ اینزائم انسانی صحت کے بے شمار مثبت پہلوؤں کا ذمہ دار ہے جن میں دل کی مضبوطی سے لے کر عمر میں اضافہ شامل ہیں۔ ورزش یا خوراک کی کمی جیسی وجوہات کی بنا پر جب خلیوں کی سطح پر توانائی میں کمی آتی ہے تو یہ اینزائم متحرک ہو جاتا ہے۔
بہت سی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جانوروں میں اے ایم پی کے اینزائم کو متحرک کرنے سے ان کی عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
کوریا کے ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کائسٹ) کی تازہ ترین تحقیق کے نتائج سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق اے ایم پی کے اینزائم ایک اور اینزائم ‘وی آر کے ون’ کے ساتھ مل کر خلیوں میں توانائی کے معاملات کو باقاعدہ رکھتا ہے۔
ایک مخصوص قسم کے کیڑے راؤنڈ وارم پر کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر وی آر کے ون اینزائم کے افعال کو بڑھایا جائے تو یہ اے ایم پی کے اینزائم کو متحرک کر دیتا ہے جس سے ان کیڑوں کی عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
جب لیبارٹری میں انسانی خلیوں پر یہی تجربہ دہرایا گیا تو ان کی عمر میں بھی ویسا ہی اضافہ ہو گیا جیسا راؤنڈ وارم کے ساتھ پیش آیا، اس تجربے کے بعد انسانی عمر میں اضافے کا امکان کافی روشن ہو گیا ہے۔
اس تحقیق کو لیڈ کرنے والے سائنسدان سیونگ جائے لی کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وی آر کے ون انسانی عمر بڑھانے کے ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرتا ہے اور ہم ایسی ادویات بنا سکتے ہیں جو اس اینزائم کی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیں۔
ابھی یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے، اگلا قدم زیادہ پیچیدہ جانوروں پر تجربات کا ہو گا تاہم لی کا کہنا ہے کہ انسانی خلیوں پر کیے گئے تجربات اس راستے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زیادہ پیچیدہ مخلوق میں بھی ایسا کرنا ممکن ہو گا۔