وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ نوازشریف حکومت کو 5 سال تنگ نہ کرنے کی شرط پر بیرون ملک گئے ہیں، شہبازشریف نے جلدی کی اور پھنس گئے، وہ کورونا پر سیاست کرنے پاکستان واپس آئے، وہ سمجھ رہے تھے کہ یہاں لاشیں بکھری ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے، عمران خان کی مرضی ہے کہ وہ کس ٹیم کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرتے ہیں، ان کی اچھے لوگوں پر نظر ہوتی ہے، وزیراعظم کابینہ میں تبدیلی سے متعلق مجھ سے مشاورت نہیں کرتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست بہت بے رحم چیز ہے، یہ آنکھیں بھی نکال دیتی ہے، جہانگیر ترین کو سیاسی طور پر جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا ہے۔ کسی انسان کا عہدہ ملنے کے بعد پتہ چلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حفیظ شیخ اور ندیم بابر وفاقی کابینہ کا حصہ رہیں گے، عمران خان کی مرضی کے بغیر وزیراعلیٰ پنجاب تبدیل نہیں ہوسکتا، عثمان بزدار تبھی ہٹیں گے جب عمران خان چاہیں گے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ صرف فضل الرحمان اپوزیشن کے موڈ میں نظر آ رہے ہیں، اگست کا مہینہ خاص ہے، شورشرابہ ہوگا لیکن عمران خان مشکل سے نکل آئیں گے، وہ 5 سال پورے کریں گے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے ہم نیوز کے پروگرام پاکستان ٹونائیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ہر آپشن استعمال کریں گے لیکن اپوزیشن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، وہ کبھی این آر او نہیں دیں گے۔
ان کے مطابق عمران خان کو پتہ ہے کہ لوگوں نے انہیں کرپشن کیخلاف احتساب کے لیے چنا ہے، مافیا کے خلاف عمران خان آخری امید ہیں، میں نے مافیا سے دو تین بار شکست کھائی ہے لیکن امید ہے کہ عمران خان ان سے شکست نہیں کھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور میری پارٹی ایک ہے، ہم دونوں میں سب کچھ مشترکہ ہے، شہبازشریف نے بلاول بھٹو کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں آگے کر دیا ہے۔
شیخ رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 9 افراد پر نیب ریفرنس دائر ہیں، وہ کیسے قانون میں ترمیم کر سکتے ہیں؟ نیب نے بیلنس کرنا ہے، عید کے بعد ایک دو افراد نیب کے ریڈار پر آ جائیں گے۔