احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔
سماعت کے دوران شہبازشریف نے اسے جھوٹا کیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پنجاب کی ساڑھے 12سال خدمت کی، چین یا دوسرے ممالک صرف عوام کی خدمت کیلئے گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کروڑوں روپے کے ٹی اے ڈی اے نہیں لیے، گاڑی کا سرکار سے پیٹرول تک نہیں لیا، ایک جانب کھربوں روپے کے منصوبوں میں اربوں روپے بچائے اور دوسری جانب کیا میں ایک گندے نالے کے کیس میں جھک ماروں گا جس کی قیمت 20 کروڑ روپے ہے؟
شہبازشریف نے عدالت سے درخواست کی کہ انہوں نے اسلام آباد جانا ہے، عدالت انہیں اجازت دے تاہم جج صاحب نے کہا کہ آج فرد جرم عائد ہونا ہے، اگر آپ کے وکیل بحث نہیں کرتے تو فرد جرم عائد کر دیتے ہیں۔
شہباز شریف کے وکلا نے رمضان شوگر مل ریفرنس میں فرد جرم کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ ان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ کیس بہت دیر سے فرد جرم کی کارروائی کے لیے فکس ہے، یہ کوئی سرپرائز نہیں ہے، آپ نے 10 گھنٹے بحث کرنی ہے تو کریں، ہم سنیں گے۔
حمزہ شریف کے وکیل نے کہا کہ آپ ہمیں ایک موقع دے دیں ہم فرد جرم پردلائل دینا چاہتے ہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ بہت موقع دے چکے ہیں، آپ آج ہی بحث کرلیں، ہم آپ کے تمام قانونی رائٹس فیصلے میں لکھ دیں گے۔
کمرہ عدالت میں موجود دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء سے دلائل طلب کر لیے۔
احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت 27 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے گواہوں کو طلب کر لیا۔