پاکستان نے سعودی عرب سے لیے گئے 3 ارب ڈالرز کے قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس کر دیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون میں شہباز رانا کی خبر کے مطابق سعودی عرب کو واپس کی گئی رقم کے فوراً بعد چین پاکستان کی مدد کو آیا اور ایک ارب ڈالر کا قرض دے دیا تاکہ پاکستان کسی قسم کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو تین برس کے لیے 6.2 ارب ڈالرز کے پیکج کا اعلان کیا تھا، اس میں 3 ارب ڈالرز نقد رقم کی صورت میں جبکہ 3.2 ارب ڈالرز تیل اور گیس کی تاخیر سے ادائیگی کی شکل میں تھا۔
معاہدے کے مطابق سعودی عرب کی تیل اور گیس کی مد میں مدد ایک برس کے لیے تھی جس کی 3 برس تک سالانہ تجدید کی جانی تھی، پاکستان بقیہ 3 ارب ڈالرز نقد رقم پر 3.2 فیصد سود ادا کر رہا تھا۔
رواں برس اپریل میں آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سعودی عرب نے بیلنس آف پیمنٹ میں مدد دینے کے لیے 3 ارب ڈالرز کا قرض پاکستان کو دیا ہے جو نومبر 2019 سے جنوری 2020 میں مکمل ہونا تھا۔
سعودی عرب نے کشمیر پر ساتھ نہ دیا تو اس کے بغیر آگے بڑھیں گے، شاہ محمود قریشی
تاہم روان برس اس کی تجدید کے صرف 6 ماہ بعد ایک ارب ڈالرز کی واپسی حیران کن معاملہ ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق چین نے رواں برس مارچ میں 2 ارب ڈالرز کے مشترکہ ڈیپازٹ کی ازسر نو تجدید کر دی تھی جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایک ارب ڈالرز کا قرض بھی مارچ میں ہی رینیو کر دیا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے دسمبر 2018 میں پاکستان کے لیے 6.2 ارب ڈالرز کے پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں 3.2 ارب ڈالرز کی تیل کی صورت میں امداد شامل تھی۔ بعد ازاں نے مالی مدد کم کر نے 2 ارب ڈالرز کر دی اور تیل کی صورت میں تاخیر سے ادائیگی کی سہولت بھی ختم کر دی تھی۔
پاکستان نے دوست ممالک سے 14.5 ارب ڈالرز کے پیکج کے معاہدے کیے تھے جن میں سعودی عرب، یو اے ای اور چین شامل تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اب تک 26.2 ارب ڈالرز کے قرض لے چکی ہے جس میں سے 19.2 ارب ڈالرز بیرونی قرض کی واپسی میں چلے گئے ہیں۔