فیس بک نے حال ہی میں امریکہ اور 50 سے زائد دیگر ممالک میں سوشل میڈیا میں اپنے حریف ٹک ٹاک کے مقابلے میں ایک شارٹ ویڈیو کا ورژن تیار کیا ہے جس کا نام ریلس رکھا گیا ہے۔ اس شارٹ فام ویڈیو سروس کو فیس بک نے اپنی مقبول ایپ انسٹا گرام میں ایک نئے فیچر کے طور پر شامل کیا ہے۔
اس پراڈکٹ نے لانچ ہوتے ہی کئی مشہور شخصیات کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے، اداکارہ جیسیکا البا نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ایک وڈیو پوسٹ کی جس میں وہ اپنی اونیسٹ کمپنی کے ماسک کی تشہیر کو فروغ دے رہی ہیں۔ جبکہ مزاح نگار مینڈی کالنگ نے قرنطینہ کے دوران اپنی معمول کی وزرش کی وڈیو اپ لوڈ کی۔
‘ایپ بیچو یا پابندی کے لیے تیار رہو’، ٹرمپ کا ٹک ٹاک انتظامیہ کو واضح پیغام
سندھ اسمبلی میں خاتون کی ٹک ٹاک ویڈیو تنقید کی زد میں
ریلس کا فیچر کچھ دن پہلے اس وقت منظر عام پر آیا جب مائیکروسافٹ چینی کمپنی بائٹ ڈینس سے ٹک ٹاک ایپ کی خریداری کے لیے کوشاں ہے۔ ذرائع کے مطابق بائٹ ڈینس وائٹ ہاؤس کے دباؤ میں آکر ٹک ٹاک کے کچھ حصہ سے محروم ہونے کے لیے تیار ہے کیونکہ ایسا نہ ہونے پر صدر ٹرمپ نے امریکہ میں ٹک ٹاک سمیت دیگر کئی ایپس پر سیکیورٹی خدشات کے بہانے پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ریلس کی لانچ نے فیس بک اور ٹک ٹاک کے درمیان جاری لڑائی کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ دونوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ امریکی نوجوانوں کو متوجہ کرنا یا راغب کرنا ہے۔
ریلس کو سب سے پہلے 2018 میں برازیل، پھر فرانس، جرمنی اور انڈیا میں ٹیسٹ کیا گیا۔