سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کے تعیناتیوں کے اختیار کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
عدالت نے چیئرمین نیب کے ڈی جیز سمیت مختلف افسران کی تعیناتیوں کے اختیارات کے معاملے کی علیحدہ فائل بنانے کا حکم دیتے ہوئے ازخود نوٹس کیس کو الگ سے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
عدالت نے نوٹس ضمانت کے ایک مقدمہ کے تحریری حکمنامے میں لیا۔ 4 صفحات پر مشتمل حکمنامہ جسٹس مشیر عالم نے تحریر کیا جنہوں نے ضمانت کے کیس میں دو رکنی بینچ کی سربراہی کی۔ بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل تھے۔
عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب تعیناتیوں کا اختیار رولز کے تحت ہی استعمال کر سکتے ہیں، نیب آرڈیننس کے تحت 1999 سے آج تک رولز نہیں بن سکے۔
عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا چیئرمین نیب آئین کے آرٹیکلز 240 اور 242 کو بالائے طاق رکھ سکتے ہیں؟
عدالت نے خود کو ڈی جی نیب عرفان منگی ظاہر کرنے والے ملزم ندیم احمد کی ضمانت بھی منظور کر لی ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ انویسٹی گیشن میں نقائص کے باعث ملزم کی پہلے بھی دو بار ضمانت ہو چکی ہے اور تحقیقات کی صورتحال اب بھی وہی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ استغاثہ نے کیس میں پہلے نقائص سے کچھ نہیں سیکھا جس سے متعلقہ افسران کی نااہلی کے تاثر میں اضافہ ہوتا ہے۔
تاہم عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹرائل کورٹ عدالت عظمیٰ کی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر مقدمہ چلائے اور اگر ملزم کی جانب سے ضمانت کا غلط فائدہ اٹھایا گیا تو ٹرائل کورٹ کو ضمانت منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
عدالت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ ڈی جی نیب عرفان منگی جو کہ اس کیس میں گواہ ہیں کا ابھی تک ضابطہ فوجداری کے تحت بیان ہی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔