ٹک ٹک نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری کیے گئے پابندیوں کے ایگزیکٹو آرڈر پر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے، ٹک ٹاک قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے تلافی کا ہر ذریعہ استعمال کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے چین کی وی چیٹ کمپنی کے خلاف بھی ایسا ہی حکم جاری کیا ہے جس کے بعد واشنگٹن کا بیجنگ کے ساتھ تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
وی چیٹ کے مالک ٹینسیٹ کا کہنا ہے کہ ہم اس حکم نامے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے پوری طرح سمجھ سکیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر ٹک ٹاک پر امریکہ میں پابندی لگانے کی دھمکی دی ہوئی ہے جس کے بعد کمپنی اپنا کاروبار مائیکروسافٹ کو فروخت کرنے کے سلسلے میں گفت و شنید کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے 15 ستمبر کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے جس دوران ٹک ٹاک کو فروخت کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد اس ایپ پر امریکہ میں پابندی عائد ہو جائے گی۔
جمعرات کو واشنگٹن نے سفارشات پیش کی تھیں کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹر ہونے والی چینی کمپنیوں کو اس وقت تک ڈی لسٹ کر دیا جائے جب تک وہ اپنے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس تک رسائی فراہم نہیں کرتیں۔