پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے متعلق میرے بیان پر اپوزیشن پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا محسن ہے، اس نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، وہاں بہت سے پاکستانی کام کر رہے ہیں، وہاں کی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہم جان دینے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں بھی ہمارے عوام کی خواہشوں کو ذہن میں رکھنا چاہیئے۔
شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہمیشہ کشمیر کے ایشو کو ہر فورم پہ اٹھانے کا کہتی ہے، ہم اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو ایک سال میں 3 بار لے کر گئے، اپوزیشن اس حساس معاملے پر سیاست نہ کرے۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس بہت ضروری ہے، سفارتکاری کی دنیا میں اس کا بہت بڑا اثر ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر سعودی عرب کا رویہ ہمارے ساتھ بہت ہمدردانہ تھا، اگر سعودی عرب اپنا وزن ہمارے پلڑے میں ڈال دے تو او آئی سی کا اجلاس مناسب ہوسکتا ہے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ ایک ارب ڈالرز سعودی عرب کو کیوں واپس کیے گئے تو انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث سعودی عرب کی معیشت بہت متاثر ہوئی ہے، تیل کی قیمتیں بھی بہت گر گئی ہیں، جس وقت ہم مشکل میں تھے تو انہوں نے ہماری مشکلات کو سمجھا اور اب ہمارا فرض تھا کہ ان کی مشکلات کو سمجھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی کوئی کشیدگی نہیں ہے، ان سے تعلقات ہیں اور رہیں گے، ان سے محبت کا رشتہ ہے اور تاریخی تعلقات ہیں۔