بھارت میں ہونے والے ایک بڑے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے پانچ اہم کارناموں کو سراہنے والے افراد کی شرح میں گزشتہ 8 ماہ میں بڑی کمی واقع ہو گئی ہے۔
جنوری 2020 میں ہونے والے ‘موڈ آف نیشن’ سروے میں عوام سے مودی حکومت کے 5 بڑے کارناموں کے متعلق سوال پوچھا گیا تھا، 20 فیصد افراد نے آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا تھا۔ اگست میں کیے گئے سروے میں یہ شرح 16 فیصد رہ گئی ہے۔
اسی طرح کرپشن فری حکومت کے متعلق 17 فیصد افراد نے مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کا اہم کارنامہ قرار دیا تھا، اگست میں اس شرح میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ صرف 9 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔
کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی کی 7 فیصد افراد نے تعریف کی ہے، بھارت کے عالمی امیج میں بہتری لانے میں کامیابی کو 2 فیصد نے کارنامہ قرار دیا ہے۔
مودی حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے متنازعہ سیٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ کو صرف ایک فیصد افراد نے کارنامہ قرار دیا ہے۔
اسی طرح مودی حکومت کی پانچ بڑی ناکامیوں میں 25 فیصد افراد نے کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی، 23 فیصد نے بیروزگاری، 14 فیصد نے لاک ڈاؤن کے بحران اور 11 فیصد نے مہنگائی قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ایودھیا کے متعلق فیصلے کو مودی حکومت کے کھاتے میں ڈالنے والوں کی تعداد میں البتہ اضافہ ہوا ہے اور جنوری میں 9 فیصد کے مقابلے میں اگست میں یہ شرح 13 فیصد ہو گئی ہے۔
اس سروے سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ صحافت پر پابندیوں اور بھرپور پراپیگنڈے کے باوجود بھارتی عوام کے مودی حکومت کے متعلق مثبت تاثر میں صرف 8 ماہ میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔