لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان کے 16 مشیران خاص کی تقرریوں کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔
چیف جسٹس قاسم خان 10 اگست کو کیس کی سماعت کریں گے، اس سے قبل ہائیکورٹ آفس نے مشیروں کی تقرری کا نوٹی فکیشن درخواست کے ساتھ نہ لگانے پر اعتراض کیا تھا جس کی درخواست گزار نے درستی کر دی ہے۔
درخواست گزار نے وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نہ تو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی سینٹ کے ممبر ہیں مگر انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وزیر اعظم کی سفارش پر صرف رکن اسمبلی ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر مقرر کیا جا سکتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 2 (اے) کے تحت غیر منتخب افراد ریاست کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 90( 1 ) کے تحت وفاقی حکومت غیر منتخب افراد کو شامل کرکے چلائی نہیں جا سکتی۔
درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کرنا عمران خان کے اپنے فرائض منصبی پر پورا نہ اترنے کے مترادف ہے۔
لاہورہائیکورٹ میں دائر درخواست کے مطابق وزیر اعظم کے دہری شہریت کے حامل مشیران خاص ریاست پاکستان کیلئے سکیورٹی رسک ہیں، عدالت آرٹیکل 90( 1) کے تحت منتخب اراکین اسمبلی کو وفاقی وزرا کے عہدوں پر تعینات کرنے کاحکم دے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت اپنے حتمی فیصلے تک وزیر اعظم کے تمام غیر منتخب مشیران خاص کو فوری طور پر کام سے روکا جائے اور وزیر اعظم عمران خان کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے سے روکے۔