وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی طلبی کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر اور 2 ارکان اسمبلی کو طلب کر لیا ہے۔
پنجاب کے وزیر برائے محنت و انسانی وسائل مجید نیازی، ایم این اے کرامت کھوکھر اور ایم پی اے غضنفر عباس چھینا کو نیب نے طلب کیا ہے۔
ایم این اے کو 13 اگست، ایم پی اے کو 17 اگست اور صوبائی وزیر کو 19 اگست کو بلایا گیا ہے۔
مجید نیازی کو پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں تبادلوں، تعیناتیوں میں کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے، بھکر سے تعلق رکھنے والے غضنفر عباس چھینا پر آمدنی سے زائد اثاثوں کا الزام ہے جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے کرامت کھوکھر کو نیب میں جمع کرائے گئے اپنے اور ملک توقیر عباس کے اثاثوں کی وضاحت کے لیے بلایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ غضنفر چھینا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے پنجاب کے چیف سیکرٹری اعظم سلیمان اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو سیاسی مداخلت کے بغیر اختیارات استعمال کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور اراکین اسمبلی کو صوبے کے معاملات چلانے کے لیے اختیارات ملنے چاہئیں۔
نیب نے عثمان بزدار کو بھی 12 اگست کو طلب کیا ہوا ہے، ان پر 5 کروڑ روپے رشوت کے عوض ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہوٹل کو شراب کا لائسنس دینے کا الزام ہے۔