طویل سفید گاؤن میں لپٹی 29 سالہ لبنانی دلہن اسرا سبلانی کیمرے کے سامنے مسکرا رہی تھیں اور مختلف پوز بنا رہی تھیں جب بیروت دھماکوں کی زوردار آوازوں سے گونج اٹھا۔
ان کی ویڈیو پر ایک دم سے کان پھاڑ دینے والے دھماکے کی آواز سنائی دی اور پھر طاقتور شاک ویو نے ان کے قدم اکھاڑ دیے تاہم وہ زخمی ہونے سے محفوظ رہیں۔
سبلانی ایک ڈاکٹر ہیں جو امریکہ میں کام کرتی ہیں، اس سانحے کے فوراً بعد انہوں نے اپنے حواس برقرار رکھے اور قرب و جوار میں موجود زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے لگیں۔

ان کے 34 سالہ شوہر احمد صبیح بیروت میں ایک کاروباری ہیں، دونوں میاں بیوی اگلے روز تک خوشی کے اس موقع پر افسردہ کر دینے والے ماحول سے متاثر نظر آئے۔
سبلانی نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بڑے موقع کے لیے دو ہفتوں سے تیاری کر رہی تھی اور دوسری لڑکیوں کی طرح بہت خوش تھی، میں سوچ رہی تھی کہ میرے والدین اس سفید لباس میں مجھے دیکھ کر کسقدر خوش ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہاں کیا پیش آیا، اس کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، میں مکمل شاک میں تھی اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہاں کیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں سوچ رہی تھی کہ کیا میں مرنے والی ہوں؟ مگر میں کیسے مر سکتی ہوں؟
ان کے پیچھے اس ہوٹل کی کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے ہوئے تھے جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھیں، میزوں پر سجائے گئے پھولوں کے بچے کھچے ٹکڑے ان کے اردگرد پڑے تھے۔
سبلانی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ہم اس علاقے میں گھومتے رہے جہاں بہت ہی اداس کر دینے والا ماحول تھا، دھماکے اور اس کی آوازسے پیدا ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے۔۔
دھماکے کے بعد دونوں میاں بیوی نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اپنی تقریبات کو جاری رکھا۔