نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا ہونے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے۔
چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جواب جمع کرا دیا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ اغوا کے معالے پر تحقیقاتی عمل کی وجہ سے وکیل سے مشاورت نہیں کر سکا۔
مطیع اللہ جان نے مشاورت کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ توہین عدالت کیس میں وقت نہ لیں، آپ کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کو جواب جمع کرانے کیلئے چار ہفتوں کا وقت دے دیا
سماعت کی تفصیل
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مطیع اللہ جان اغوا کیس میں پولیس رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کر دیا اور آئی جی اسلام آباد سے معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ جس ادارے سے آپکو معلومات چاہیے وہاں خود جا کر نکالیں، پولیس والوں کی کوئی ٹریننگ نہیں، سب بابوؤں والا کام کر رہے ہیں اور ہر کیس میں ایسا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل کے دور میں انکوائری کیسے کرنی ہے، افسروں کو معلوم ہی نہیں، وہ اپنی کرسی گرم کر کے بیٹھے ہیں، کل ہونے والے واقعہ پر آپ نے دو صفحات کی رپورٹ دے کر جان چھڑائی ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق جواب جمع کرا چکے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ خطوط کا کیا مطلب ہے آپ نے انکوائری کرنی تھی، آپ کا آفیسر انکوائری کرتا ہے تو وقت کا خیال رکھنا چاہیے، آفیسران نے صرف خطوط بازی کی ہے۔
انہوں نے سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جا کر اپنی فائل مکمل کریں، لیٹر بازی نہیں چلے گی، اس طرح تو ایک عرصے سے زیادہ کا وقت لگ جائے گا۔
پی ایف یو جے کا اعلان
اس دوران صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے مطیع اللہ جان کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس ایک ٹویٹ پر لیا گیا ہے، فیصلے سے سوشل میڈیا کا مستقبل جڑا ہے، آئین کا آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔
ناصر زیدی کا کہنا تھا کہ پی ایف یو جے کا موقف ہے کہ اس معاملے پر فیصلے سے قبل آرٹیکل 19 پر ہمیں بھی سنا جائے، پی ایف یو جے کی اظہار رائے کی آزادی، جمہوریت اور علیہ کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد ہے، آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر مطیع اللہ جان کے ساتھ کھڑے ہیں، میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر شپ عائد ہے، میڈیا کی آزادی کی جدوجہد کے لیے اہم لمحہ آن پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر کے صحافی اکھٹے ہیں اور فیصلہ کن معرکے کے لیے تیار ہیں، مطیع اللہ کیس میں پولیس رپورٹ مذاق ہے، پولیس میں جرات نہیں کہ اداروں سے واقعات کے تفصیل لے سکے۔