سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔
شوگر مل مالکان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں قائم بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ شوگر کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن غیرقانونی ہے، تاہم یہ فیصلہ نیب اور ایف بی آر کو کو شوگر مل مالکان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے سے نہیں روکے گا۔
سندھ ہائیکورٹ نے فیصلے میں آبزرویشن دی ہے کہ شوگرکمیشن نے رولز آف بزنس کی پیروی نہیں کی، کمیشن کا قیام بھی نامکمل تھا اور اس نے درخواست گزاروں کو سماعت کا موقع نہیں دیا۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ تعصب پر مبنی تھی، اس میں آئین کے آرٹیکل 4، 10 اے اور 25 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کے تمام اداروں کو کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی قسم کا فیصلہ لینے سے بھی روک دیا ہے، نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیب آرڈیننس کے تحت کمیشن رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر آزادانہ تحقیقات کرے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ قوانین کے تحت آزادانہ انکوائری کرے اور رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر اس بات کی جانچ پڑتال کرے کہ کیا کسی درخواست گزار نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔