حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر وزارت قانون کی کارکردگی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق اس عرصے میں 28 ایکٹ اور 39 آرڈیننس جاری ہوئے ہیں۔
وزارت قانون کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای آفس نامی سافٹ ویئر تیار ہو چکا ہے لیکن فنڈز اور کمپیوٹرز دستیاب نہیں ہوئے، وزیراعظم آفس سے کوئی ریڈ لیٹر وزارت کو موصول نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق وزارت قانون نے وفاقی حکومت سے متعلقہ 9 ہزار 450 مقدمات کی مختلف عدالتوں میں پیروی کی، ان میں سے 814 سپریم کورٹ، 6 ہزار 79 ہائیکورٹس جبکہ دیگر کیسز دوسری عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وزارت قانون نے مختلف وزارتوں اور محکموں کو 600 مختلف امور پر قانونی رائے فراہم کی اور 2 سال میں 641 بین الاقوامی معاہدے اور یادداشتوں کا جائزہ لیا۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزارت قانون نے مختلف اداروں کے رولز کے جائزہ کیلئے 4 ہزار 699 درخواستیں نمٹائیں، ڈرافٹنگ ونگ کو پارلیمان سے 345 پرائیوٹ ممبر بل جائزے کیلئے موصول ہوئے۔
وزارت قانون نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی توسیع کا کام بھی جاری ہے۔
اسی طرح انتظامی ٹربیونلز اور خصوصی عدالتوں میں ججز تعینات کیے گئے، ملک بھر میں نئی خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔