وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اشرافیہ کا طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے، جب اسے قانون کے دائرے میں لانے کے اقدام کیے گئے تو بہت شورشرابا مچ گیا اور اس طبقے نے حکومت گرانے کی کوشش کی۔
دنیا نیوز کے سینئر اینکر کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اشرافیہ کے پاس تمام مراعات ہیں، وہ ٹیکس بھی نہیں دیتے اور ایک مافیا بن چکے ہیں۔
معیشت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے 3 بڑے چیلنج درپیش ہیں، سب سے پہلا 10 ارب ڈالرز کا جاری کھاتوں کا خسارہ تھا جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے۔ گزشتہ 2 سال کے دوران یہ خسارہ صرف 3 ارب ڈالرز رہ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دوسرا چیلنج توانائی کا ہے، سابقہ حکومتوں نے بجلی کے مہنگے معاہدے کیے جس کے باعث صنعتوں کو اور عوام کو سستی بجلی فراہم نہیں کی جا سکتی اور نتیجتاً مصنوعات مہنگی ہونے کے باعث دنیا میں دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بجلی سستی کرتے ہیں تو گردشی قرضہ بڑھتا ہے جس کی ادائیگی میں بہت بڑی رقم چلی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
کورونا وائرس کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میں لاک ڈاؤن کے خلاف تھا کیونکہ اس سے غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا، میری اپنی جماعت سے لاک ڈاؤن کرنے کا بہت دباؤ تھا، میں نے اس لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پیش کی کہ جہاں کورونا زیادہ پھیلا ہوا ہے اس علاقے میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔
وزیراعظ نے بتایا کہ کورونا وائرس کے خلاف کامیابی کے بعد بل گیٹس نے انہیں کہا کہ وہ اس پر ریسرچ کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان نے کیسے یہ کارنامہ سرانجام دیا تو میں نے کہا کہ ضرور کریں۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم نے لاک ڈاؤن کے بجائے غریبوں کا سوچا، اس لیے اللہ نے کورونا جیسی وبا سے جلد نجات دلا دی۔