فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فلسطینی سفیر کو بھیجا گیا شوکاز نوٹس واپس لیتے ہوئے ان سے معذرت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کلیکٹر آف کسٹم اسلام آباد کی جانب سے ایک غیرملکی سفیر کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی خلاف ورزی پر ایک نوٹس بھیجا گیا ہے۔
ڈیوٹی فری گاڑی کی فروخت، ایف بی آر نے فلسطینی سفیر کو طلب کر لیا
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سفارتی عملے کو ویانا کنونشن کے تحت خصوصی استثنیٰ حاصل ہے اور یہ نوٹس اس استثنیٰ کے خلاف تھا اس لیے ایف بی آر کی ہدایات پر اسلام آباد کسٹمز نے گاڑی ضبط کرنے کی رپورٹ میں ترمیم کرتے ہوئے شوکاز نوٹس میں بھی ترمیم کر دی ہے۔
ایف بی آر نے اعلامیے میں قابل احترام سفیر کو تکلیف دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایف بی آر نے ٹویٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے معذرت کا اظہار کیا ہے۔
یہ خبر سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ایف بی آر کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس میں عام صارفین کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی شامل تھے۔ کئی افراد نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے حالیہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے اس نوٹس کی ٹائمنگ پر بھی سوال اٹھائے۔
ایف بی آر نے اظہار وجوہ نوٹس 4 اگست کو جاری کیا جس میں فلسطینی سفیر اور گاڑی خریدنے والے باصل احمد آفندی سے کہا گیا ہے کہ یہ گاڑی بحق سرکار ضبط کی جا سکتی ہے اور دونوں شخصیات کے خلاف گاڑی کی مالیت کا 10 گنا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
دونوں اشخاص کو منگل کو ایف بی آر کے دفتر پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ آپ کی گاڑی بحق سرکار ضبط کر لی جائے اور کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 156 کے تحت سزا کا عمل شروع کیا جائے۔
فلسطینی مشن نے 2019 ماڈل کی بی ایم ڈبلیو ایکس 7 اور کروزرZX درآمد کی تھیں جن پر انہیں بالترتیب 58.2 ملین اور 18.4 ملین روپے کا ٹیکس استثنیٰ ملا تھا۔
ایف بی آر نے چھاپہ مار کر باصل احمد آفندی سے بی ایم ڈبلیو ضبط کر لی تھی۔