ایلن مسک نے انسانی ذہن اور کمپیوٹر کو آپس میں جوڑنے کا عملی مظاہرہ کر کے دکھا کر مستقبل کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔
مسک کی کمپنی نیورالنک نے ایک ایسی چپ ایجاد کر لی ہے جسے دماغ میں جوڑ کر نہ صرف نیوران کی نقل و حرکت کمپیوٹر اسکرین پر دیکھی جا سکتی ہے بلکہ اس سے نیوران کو متحرک بھی کیا جا سکتا ہے۔
آنکھیں کون سے چار بڑے امراض کی پیش گوئی کر سکتی ہیں؟
نیوزی لینڈ میں طویل فاصلے تک وائرلیس بجلی مہیا کرنے کی تیاریاں شروع
برطانیہ میں تیز ترین انٹرنیٹ کا کامیاب تجربہ، 178 ٹی بی ڈیٹا ایک سیکنڈ میں ٹرانسفر
یہ چپ ایک سکے کے برابر ہے جس کی ایک طرف سے چند انتہائی باریک تاریں نکلی ہوئی ہیں، اسے کھوپڑی کے اوپری حصے میں داخل کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کی تاریں دماغ کی سطح پر چند ملی میٹر تک چلی جائیں گی۔
یہ تاریں نیوروان کی حرکت کو نوٹ کر سکتی ہیں اور یہ اپنی طرف سے بھی الیکٹریکل سگنل بھیج سکتی ہیں تاکہ نیوران متحرک ہو سکیں۔
ایلن مسک نے ایک ویڈیو کے ذریعے اس تمام عمل کا نمونہ پیش کیا۔ اگرچہ ابھی یہ کام ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن اس میں شعبے میں مزید ترقی کے بعد دماغ کے تمام سگنل دیکھے بھی جا سکیں گے اور انہیں مرضی سے متحرک بھی کیا جا سکے گا۔
مسک نے کہا کہ مستقبل میں اس کے ذریعے ان تمام طبی مسائل کو حل کیا جا سکے گا جن کا تعلق دماغ اور ریڑھ کی ہٖڈی کے ساتھ ہے۔
نیورالنک نے سوروں پر تجربے کے ذریعے دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان تعلق دکھایا ہے۔ ان کی کھوپڑی میں چپ داخل کی گئی تو کمپیوٹر اسکرین پر ان کے دماغی سگنل نمودار ہو گئے جہاں ان کے دماغ میں چلنے والی سرگرمیاں دیکھی جا سکتی تھیں۔
ایلن مسک کے اس تجربے کے بعد سائنسدانوں کے درمیان اس ڈیوائس کے محفوظ ہونے کے متعلق بحث چھڑ گئی ہے، اگرچہ مسک کا کہنا ہے کہ اس سے دماغ کو نقصان پہنچنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن چند سائنسدان ان سے اختلاف کرتے ہیں۔
اس بات پر البتہ زیادہ تر سائنسدانوں کا اتفاق ہے کہ دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنے میں کامیابی کے بعد بہت سے طبی مسائل، جن میں فالج بھی شامل ہے، حل ہو سکیں گے۔