لندن کے ٹریفلگر اسکوائر میں ہزاروں لوگوں نے کورونا کو سازش قرار دیتے ہوئے لاک ڈاؤں کی پابندیوں اور ویکسین کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
‘یونائٹ فار فریڈم’ نامی اس ریلی میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت جھوٹ بولنا ختم کرے اور ہر قسم کی آزادی شہریوں کو لوٹا دے۔
کورونا وائرس پھیلانے کا الزام، برطانیہ میں 77 فون ٹاورز جلا دیے گئے
برطانیہ میں بڑی تعداد میں لوگ کورونا کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں، نئی تحقیق
مظاہرے میں شامل ہزاروں افراد نے کوئی ماسک نہیں پہنا ہوا تھا اور انہوں نے ایسی علامات اٹھائی ہوئی تھیں جو کورونا وبا کو ایک جھوٹ قرار دیتی ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ماسک سے انسان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے، انہوں نے پابندیوں کو بچوں پر تشدد کے مترادف قرار دیا۔ کئی افراد نے کورونا ویکسین کو لازمی قرار دینے کے متوقع حکم کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ مارچ میں برطانیہ میں ایک اور سازشی نظریے نے جنم لیا تھا جس کے مطابق کورونا وائرس 5 جی کے ٹاورز سے پھلتا ہے جس کے بعد 77 ٹاورز کو عوام نے جلا دیا تھا اور کئی انجینئرز پر حملے کیے گئے تھے۔
برطانیہ کی ٹیلی کام کمپنی BTکے سی ای او ’فلپ جینسن‘کی جانب سے ایک یوٹیوب ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی کے اسٹاف پر حملوں کے 40 واقعات ہوچکے ہیں۔
اس تھیوری کے مطابق 20 فروری 2020 کو بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری کردہ 20 پاؤنڈ کے نئے نوٹ پر ان تمام باتوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔ اس پر یقین کرنیوالے افراد کے مطا بق اس نوٹ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بننے والا فائیوجی کا ٹاور اور اسکی مہلک شعائیں موجود ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ اس نوٹ پر کورونا وائرس سے مشابہہ علامت بھی موجود ہے۔