گیلپ کے حالیہ سروے کے مطابق 55 فیصد کاروباری افراد سمجھتے ہیں کہ پاکستان درست سمت میں جا رہا ہے جبکہ 45 فیصد اس کے برخلاف سوچتے ہیں، سال کی پہلی سہ ماہی میں 40 فیصد لوگوں نے پاکستان کے درست سمت میں جانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
گیلپ بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے کے نتائج کے مطابق 81 فیصد کاروباری طبقے نے مستقبل کی بہتری کے یقین کا اظہار کیا۔ مستقبل کا مجموعی کاروباری اعتماد رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 61 فیصد بڑھا ہے۔
یہ بی سی آئی کی تیسری رپورٹ ہے جس میں 450 سے زائد کاروباری شخصیات سے سوالات پوچھے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن کمپنیوں کے قیام کو 15 برس سے کم ہوئے ہیں، انہوں نے فروخت میں اضافہ ہونے کا بتایا ہے۔ 33 فیصد کاروباریوں نے کہا ہے کہ سامان کی فروخت میں 40 فیصد کمی اور 20 فیصد نے فروخت میں 60 سے 80 فیصد کمی واقعی ہوئی ہے۔
مینوفیکچرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 75 فیصد افراد کورونا کے باعث فروخت میں کمی کا کہا ہے۔
مجموعی طور پر سروے میں شامل 66 فیصد تاجروں نے کورونا کے دنوں میں فروخت کم ہونے کا بتایا، 10 فیصد نے اضافے کا بتایا جبکہ 24 فیصد نے کہا کہ ان کی فروخت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
فروخت میں کمی کی سب سے زیادہ 85 فیصد شکایت کھانے پینے کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے کی، بجلی کی اشیاء اور سپیئر پارٹس کی فروخت سے منسلک 76 فیصد تاجروں نے فروخت میں کمی کا بتایا۔
25 فیصد کاروباریوں نے نقصانات کم کرنے کے لیے یا ملازم نکالے یا انہیں بغیر تنخواہ کے چھٹی دی، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 10 فیصد کاروباریوں نے ڈاؤن سائزنگ کی۔