جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے وزیر اعظم عمران خان اور دیگر حکومتی عہدیداروں کی ٹیکس تفصیلات مانگ لی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ چونکہ ان کے خفیہ اور قانونی طور پر محفوظ انکم ٹیکس اور بینک ریکارڈ تک غیرقانونی طور پر رسائی حاصل کی گئی ہے اس لیے وہ بھی وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کی معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ایف بی آر نے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی منی ٹریل غیرتسلی بخش قرار دے دی
ایف بی آر حکام ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا الزام
ایک بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں وزیراعظم عمران خان، وزیرقانون ڈاکٹر فروغ نسیم، ایسٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین مرزا شہزاد اکبر، ڈاکٹر محمد اشفاق احمد اور ان کے خلاف درخواست دینے والے عبدالوحید ڈوگر کی معلومات مہیا کی جائیں۔
سرینہ عیسیٰ نے کہا کہ ان لوگوں کو معلومات مہیا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ عوامی عہدوں پر براجمان ہیں جبکہ ان میں سے ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے نے الزام عائد کیا ہے کہ میں اور میرے اہلخانہ ٹیکس دہندہ نہیں ہیں۔
انہوں نے بیان کے ساتھ ایف بی آر کو دیا گیا اپنا 28 اگست کا جواب بھی نتھی کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کبھی کوئی عوامی یا سرکاری عہدہ نہیں رہا اور انہوں نے گذشتہ 2 برسوں کے دوران بالترتیب 8 لاکھ 9 ہزار 970 روپے اور 5 لاکھ 76 ہزار 540 روپے ٹیکس ادا کیا ہے۔
اس سے قبل بھی انہوں نے 2 بیانات جاری کیے تھے جس میں ایف بی آر کے نوٹسز کا جواب دیا گیا تھا۔
جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ ایف بی آر چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی تشکیل نو کریں اور 38 برس پہلے امریکن اسکول میں ملازمت کے آغاز سے لے کر اب تک ایک ایک روپے کی آمدنی کی وضاحت کرے۔