متحدہ عرب امارات کے حکمران نے اسرائیل کا معاشی بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تجارتی اور مالی معاہدوں کی اجازت دے دی ہے۔
یو اے ای کی ریاست خبررساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے کہا ہے کہ اسرائیل کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ شیخ خلیفہ بن زائد النیہان کے حکم پر کیا گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق اس حکم کے بعد اسرائیلی شہری اور فرمز کو یو اے ای میں کاروبار کی اجازت مل جائے گی، اسی طرح اسرائیلی سازوسامان کی خریدوفروخت بھی شروع ہو سکے گی۔
اسرائیلی کمپنی کی پہلی براہ راست فلائیٹ
پیر کو اسرائیل کی سب سے بڑی کمپنی ایل آل کی پہلی براہ راست کمرشل پرواز کے ابوظہبی پہنچنے کا امکان ہے جس میں اسرائیل اور امریکہ کے اعلیٰ حکام موجود ہوں گے جن میں صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے قیام کے بعد 1972 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس میں فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کے بعد ہی اسرائیل کو تسلیم کرنا ممکن قرار دیا گیا تھا، آج اس قانون کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ فلسطینی قیادت نے یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں فلسطینی مقاصد کے حصول کے حوالے سے کچھ نہیں ہے اور اس میں فلسطینی عوام کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں موجود حماس نے معاہدے کو پشت میں غداری کا خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔