وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے، فوج حکومت کی جمہوری پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج کےقبضے کے پوری دنیا پر اثرات آئیں گے، ہم چاہتے ہیں مقبوضہ کشمیر پر اوآئی سی قائدانہ کردار ادا کرے۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے متعلق پالیسی ہو یا افغانستان میں امن کا معاملہ ہو، سویلین حکومت اور فوج ایک ہی صفحے پر ہیں۔
افغان امن معاہدے پر ان کا کہنا تھا کہ 19 سال کی جنگ نے افغان معاشرے میں تقسیم پیدا کر دی ہے، اس لیے ہر کسی کو ایک دم سے امن پر تیار کرنا ممکن نہیں تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، افغانستان اپنے متعلق جو بہتر سمجھتا ہے، پاکستان کے لیے بھی وہی بہتر ہے، طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان جو کچھ کر سکتا تھا اس نے کیا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ امن کو خراب کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، بھارت اس جنگ زدہ ملک میں امن کے حق میں قطعاً نہیں ہے۔
پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی اور پریس فریڈم کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے خلاف کھل کر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، میں 20 سال برطانیہ میں رہا ہوں، آزادی اظہار رائے کا مطلب جانتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ میرے دور میں حکومت پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی لیکن ہمیں تنقید سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
پاک چین تعلقات سے متعلق عمران خان نے کہا کہ پاکستان کامعاشی مستقبل چین سے وابستہ ہے ، ہمیشہ کی طرح چین کیساتھ پہلے سے بہتر تعلقات ہیں ، پاکستان کیلئے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ قومی مفاد میں کریں گے، امریکہ سمیت تمام دوست ممالک کیساتھ اچھےتعلقات ہیں۔
کورونا کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس وبا کے حوالے سے بہترین فیصلے کیے ہیں، ہم نے آنکھیں بند کر کے لاک ڈاؤن نہیں کیا۔