پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں (آئی ایس پیز) کے درمیان غیراخلاقی مواد کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایس پیز نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی اے غیراخلاقی مواد کی آڑ میں سیاسی آوازوں کو ریگولیٹ کرنا چاہتی ہے جبکہ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ ناشائشتہ مواد کو انٹرنیٹ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
پی ٹی اے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے ان مذاکرات میں اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ صرف فحش ویب سائیٹ تک رسائی ختم کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈا پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ فحش مواد تک رسائی دینا پیکا 2016 کے سیکشن 37 کی خلاف ورزی ہے، آئی ایس پیز کو بارہا اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا لیکن صورتحال جوں کی توں ہے۔
پاکستان میں 4 سی ڈی این موجود ہیں جن میں یوٹیوب، فیس بک، اکامائی اور نیٹ فلیکس شامل ہیں، انہیں مقامی آئی ایس پیز کے سرور پر قائم کیا گیا ہے جن میں پی ٹی سی ایل، سٹارم فائبر، نیاٹیل، وائی ٹرائب اور موبائل کمپنیاں شامل ہیں۔
یوٹیوب، فیس بک اور نیٹ فلیکس اپنے سی ڈی این کے ذریعے مواد دکھاتے ہیں۔
ڈان اخبار کے مطابق پی ٹی اے کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ ٹویٹر کس طرح ہیش ٹیگ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے جس سے ٹرینڈز جنم لیتے ہیں اور توجہ حاصل کرتے ہیں؟
ان کا کہنا ہے کہ ان ہیش ٹیگز سے اندرونی تنازعات جنم لیتے ہیں اس لیے ان سی ڈی این کو بھی ضوابط کے تحت لانا ضروری ہے۔
پاکستان میں اس وقت 3 ہزار جی بی پی ایس انٹرنیٹ ٹریفک موجود ہے جبکہ سی ڈی این اتنی ہی ٹریفک پاکستان میں لاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایس پیز کا کہنا ہے کہ سی ڈی این کا کنٹرول غیرملکی مواد فراہم کرنے والی کمپنیوں کے پاس ہے، پی ٹی اے کو اپنے مہنگے ویب مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے نگرانی کرنی چاہیے۔
مذاکرات کے دوران آئی ایس پیز نے پی ٹی اے کو بتایا کہ سی ڈی این بند کرنے سے پاکستان کا 60 فیصد انٹرنیٹ بند ہو جائے گا اور اس کی قیمت دو سے تین گنا بڑھ جائے گی۔
بشکریہ ڈان نیوز