آئی جی ایف سی بلوچستان کا کہنا ہے کہ حیات بلوچ کی ہلاکت اجتماعی نہیں بلکہ ایک انفرادی فعل ہے، یہ ایک شخص کی غفلت ہے ادارے کی نہیں۔
مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (ایف سی) میجر جنرل سرفراز علی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 11 بجکر 45 منٹ پر واقعہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ایف سی کارواں کے سامنے موٹر سائیکل سوار نے دھماکہ کیا جس میں ہمارے 3 سپاہی زخمی ہوئے۔
ڈی جی ایف سی نے کہا کہ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کیا گیا، حیات بلوچ والد کے ساتھ کھیت میں کام کر رہا تھا جسے پوچھ گچھ کے لیے بلا کر ایک طرف بٹھا دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی دوران ایک اہلکار شادی اللہ نے حیات پر فائرنگ کر دی، فائرنگ کرنے والے ایف سی اہلکار کو پکڑ کر ہتھیار قبضے میں لے لیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شادی اللہ 10 سال پہلے بھی ایک واقعہ کر چکا ہے، اس پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ، یہ ایک شخص کی غفلت ہے ادارے کی نہیں۔
ڈی جی ایف سی نے کہا کہ ایف سی کارواں میں شامل دیگر 14 جوانوں میں سے کسی نے فائر نہیں کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ملزم اہلکار کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ انسانی حقوق کا نہیں بلکہ کریمنل معاملہ ہے۔
اس پر چیئرمین کمیٹی مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ یہ کریمنل نہیں انسانی حقوق کا معاملہ ہے، آئین پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق پورا باب موجود ہے۔
بعد ازاں آئی جی ایف سی کی استدعا پر کمیٹی اجلاس کی کارروائی ان کیمرا کر دی گئی۔