سی پیک اتھارٹی کے سربراہ جنرل (ر) عاصم باجوہ نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنی اہلیہ اور بھائیوں کی سرمایہ کاری کی تفصیلات بتا دی ہیں۔
اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے خلاف تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں، ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش بےنقاب ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیشہ عزت و وقار کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی اور کرتا رہوں گا۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس وقت میں نے 22 جون کو اپنے اثاثوں کا اعلان کیا تھا، اس وقت میری اہلیہ کے بیرون ملک کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری یا شیئرز موجود نہیں تھے، انہوں نے یکم جون کو اپنی تمام سرمایہ کاری ختم کر دی تھی، اس حوالے سے امریکہ میں موجود سرکاری ریکارڈ سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2002 سے یکم جون 2020 کے دوران میری اہلیہ نے میرے بھائیوں کے کاروبار میں کل 19 ہزار 492 ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، یہ سرمایہ کاری میری 18 سال کی بچت پر مشتمل تھی جس کا ریکارڈ موجود ہے۔
اپنے بھائیوں کے کاروبار کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ باجکو گلوبل مینیجمنٹ ایک انتظامی کمپنی ہے جو باجکو سے متعلق تمام کاروبار کے لیے انتظامی خدمات ادا کرتی ہے اور اس کے لیے معاوضہ لیتی ہے۔
سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ باجکو گلوبل مینیجمنٹ کمپنی کے پاس پاپا جونز کے امریکہ، یو اے ای میں کاروبار یا رئیل اسٹیٹ کی ملکیت نہیں ہے، اس حوالے سے 99 کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے غلط بیانی کی گئی ہے، امریکہ میں کل 27 اور یو اے ای میں 2 کمپنیاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 18 برسوں کے دوران میرے بھائیوں نے فرینچائز، اثاثے اور رئیل اسٹیٹ خرید کی ہیں جن کی مالیت 7 کروڑ ڈالرز ہیں جن میں سے 60 کروڑ ڈالرز بنکوں سے قرض اور دیگر مالی اداروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔
کاروبار کے لیے ابتدائی سرمایہ کہاں سے آیا؟
ان کا کہنا تھا کہ 18 برسوں کے دوران میرے بھائیوں اور اہلیہ کی ابتدائی سرمایہ کاری 73 ہزار 950 ڈالر تھی جس میں میری اہلیہ کی سرمایہ کاری 19 ہزار 492 ڈالرز تھی جبکہ 5 بھائیوں کی سرمایہ کاری 54 ہزار 458 ڈالرز تھی۔ کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع کی دوبارہ سرمایہ کاری کی جاتی رہی جس کے ثبوت موجود ہیں۔
عاصم باجوہ نے مزید بتایا کہ ان کے 2 بھائی ڈاکٹر ہیں، ایک بھائی امریکی بینک کے نائب صدر کے طور پر کام کرتا رہا ہے اور ایک بھائی ریسٹورنٹ چلانے والی کمپنی میں کنٹرولر کے عہدے پر کام کرتا رہا ہے۔ اسی طرح ایک بھائی ریسٹورنٹ چین میں آپریٹنگ پارٹنر کے طور پر کام کرتا رہا ہے، 2002 میں اپنا کاروبار شروع کرنے سے قبل یہ تمام بھائی اپنے اپنے شعبے میں کام کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے بھائی خودمختار ہیں، ان کے کاروبار میں 50 دیگر افراد کی بھی سرمایہ کاری موجود ہے۔
بیٹوں کے کاروبار
اپنے بچوں کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا میرے ایک بیٹے کی کمپنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے مگر اس کمپنی نے آج تک کوئی کاروبار نہیں کیا۔
ہمالیہ لمیٹڈ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس میں میرے بیٹے کے پاس 50 فیصد شیئرز ہیں لیکن یہ ایک چھوٹی سی کمپنی ہے جس نے 3 برسوں میں 5 لاکھ روپے سے بھی کم نفع کمایا ہے۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کی ایک اور چھوٹی سی کمپنی ہے جسے گزشتہ 5 برسوں کے دوران نقصان ہوا ہے۔ کرپٹن کمپنی 2019 میں ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہوئی اور اس نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کے کسی بینک میں اس کا اکاؤنٹ کھولا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میرے بیٹے 30 سال سے اوپر کی عمر کے ہیں اور خودمختار ہیں، ایک بیٹے نے امریکہ میں مارگیج قرض سے چھوٹا سا مکان خریدا تھا جس کا 80 فیصد قرضہ ابھی بھی دینا باقی ہے۔