قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر میں پیشی کے موقع پر مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر کارکنوں کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
کیپٹن صفدر کی درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔
پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے کے بعد درخواست قابل سماعت نہیں رہی۔
عدالت نے کیپٹن صفدر سمیت 16 مسلم لیگی کارکنوں کی ضمانت خارج کر دی اور انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ 11اگست2020 کو مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے۔
قومی احتساب بیورو نے نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی پر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدرسمیت188 ن لیگی رہنماؤں پر ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
مقدمے میں مریم نواز، ان کے شوہر محمد صفدر سمیت رانا ثنا اللہ، پرویز رشید، زبیر محمود، جاوید لطیف، دانیال عزیز اور پرویز ملک کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔