امریکہ کی معروف کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ تک کورونا ویکسین کی منظوری لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
فائزر کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت منظوری کے لیے اپلائی کریں گے جب انہیں یقین ہو گا کہ ویکسین وائرس کے خلاف مکمل طور پر موثر ہے۔
فائزر اپنے جرمن پارٹنرز کے ساتھ ویکسین بنانے میں مصروف ہے جس کے آخری آزمائشی مراحل امریکہ، برازیل اور دیگر ممالک میں چل رہے ہیں۔
کمپنی کے سی ای او البرٹ بورلا کا کہنا ہے کہ اگر آخری مرحلے کے نتائج مثبت آئے تو کمپنی فوری طور پر منظوری کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے پاس جائے گی۔
انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ کمپنی پر نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات سے قبل ویکسین تیار کرنے کے لیے سیاسی دباؤ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فائزر نے کبھی بھی ویکسین کے موثر اور محفوظ ہونے سے قبل اس کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے ماہ تک ویکسین کی سپلائی بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ امریکی میڈیا میں مسلسل ان الزامات کی گونج سنائی دے رہی ہے کہ صدر ٹرمپ انتخابات سے قبل ویکسین تیار کرانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں الیکشن میں فائدہ ہو سکے۔
امریکہ میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے میں ناکامی کی وجہ سے ٹرمپ کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے جسے وہ انتخابات سے قبل بحال کرنا چاہتے ہیں۔