وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ اسکولوں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا مگر حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ اسکول کھلنے کے بعد بچوں کے ٹیسٹ لیے جائیں گے تاکہ ان کی تعلیمی سطح کا علم ہو سکے، 6 ماہ میں بچوں کی تعلیم کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار اسکول کھولنے کی وجہ یہ ہے تاکہ درمیان میں صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے، اگر حالات بہتر ہوئے تو آہستہ آہستہ پرانا شیڈول شروع کر دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں موجود وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ ایک وقت میں آدھی کلاس کو بلایا جائے گا جبکہ بقیہ طلبہ اگلے دن اسکول آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا، ان کے لیے ماسک پہننا بہت ضروری ہے کیونکہ ابھی تک وبا مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
والدین کو ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بچوں کے لیے 2 ماسک تیار کریں، ایک استعمال کرنے کے بعد اسے دھو لیا کریں، سرجیکل ماسک میسر نہ ہوں تو کپڑے کا بنا ہوا ماسک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے میں اساتذہ اور طلبہ کے ٹیسٹ بھی لیے جائیں گے، والدین کمزور اور بیمار بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور تعلیمی اداروں میں جانے والے بچوں سے گھر کے بزرگوں کو دور رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں صابن، سینیٹائزر اور پانی کا انتظام بھی ہو گا کیونکہ وبا سے بچنے کے لیے یہ ضروری اشیاء ہیں۔