بھارت میں کورونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کی تمام تدابیر ناکام ہو گئی ہیں اور مصدقہ کیسز کی تعداد 40 لاکھ 23 ہزار 179 ہو گئی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 86 ہزار 432 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کورونا کیسز امریکہ میں ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 63 لاکھ ہو چکی ہے، برازیل میں 41 لاکھ مصدقہ کیسز آ چکے ہیں جبکہ بھارت اب برازیل سے بھی آگے بڑھنے والا ہے۔
بھارت میں لاک ڈاؤن کے ذریعے کورونا پھیلاؤ روکنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے جس کے بعد کاروبار اور نقل و حرکت کھول دی گئی ہے تاہم اس کے باعث وبا کا پھیلاؤ تیز تر ہو گیا ہے۔
اس وقت بھارت میں روزانہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد اوسطاً 80 ہزار سے زائد ہے جو دنیا میں ایک ہی دن کی سب سے بڑی تعداد ہے، روزانہ ایک ہزار افراد کی موت بھی واقع ہو رہی ہے جو اس صورتحال کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اب تک 69 ہزار 668 افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت میں صرف 13 روز میں مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے 40 لاکھ ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برازیل دونوں سے زیادہ تیز رفتاری سے وبا پھیل رہی ہے۔
بھارت میں مہاراشٹر کی ریاست سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، روزانہ کے کیسز کا ایک چوتھائی حصہ اسی ریاست سے سامنے آ رہا ہے، مہاراشٹر میں گنجان آباد شہر ممبئی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
پروفیسر شمیکا روی ماہر معاشیات اور سابق حکومتی مشیر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی وبا کے عروج سے کوسوں دور ہے، جب تک مہاراشٹر میں کورونا پر قابو نہیں پایا جاتا، ملک میں اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔