گردشی قرضوں میں ماہانہ 12 ارب روپے کمی کے حکومتی دعوؤں کے برعکس اس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور یہ گزشتہ برس بڑھ کر 44.8 ارب روپے ماہانہ تک پہنچ گئے ہیں۔
2019-20 کے مالی سال کے دوران گردشی قرضوں کی مجموعی مقدار 538 ارب روپے رہی جس کی ماہانہ اوسط 44.8 ارب روپے اور روزانہ کی اوسط 1.48 ارب روپے بنتی ہے۔
گردشی قرضوں کی مجموعی مالیت 22 سو ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے، گزشتہ 20 برسوں کے دوران کوئی بھی حکومت ان قرضوں پر لگام نہیں ڈال سکی اور یہ ہر حکومت کے لیے ایک مستقل درد سر بنے رہے ہیں۔
دی نیوز میں شائع مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق جب حکومت کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے قبل گردشی قرضوں میں اضافہ قابو میں تھا لیکن وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اس نے پھر سے رفتار پکڑ لی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی، گیس اور کھادوں میں دی جانے والی سبسڈی پر نظرثانی کا منصوبہ تیار کر رہی ہے جس میں عمومی قسم کی سبسڈی کو ختم کر کے صرف اس طبقے کو یہ سہولت دے گی جو اس کا حقدار ہے۔
منسٹری آف فائنانس کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ 2019 میں جمع ہونے والا گردشی قرضہ 465 ارب روپے تھا جو گزشتہ برس بڑھ کر 538 ارب روپے تک پہنچ گیا، یہ ایک پریشان کن بات ہے۔
انہوں نے اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ اہم بات لائن لاسز ختم کرنے کے لیے بجلی کی چوری پر قابو پانا اور 5 کلو واٹ کے اسمارٹ میٹرز لگانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے ٹیرف کے معاملے پر پالیسی فیصلوں اتفاق ضروری ہے، اس کے علاقہ سبسڈیز پر مناسب انداز سے بجٹ تیار کرنا، جی ایس ٹی کو صرف وصولیوں کے وقت وصول کرنا بھی اس حکمت عملی میں شامل ہونا چاہیے۔