• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

غیرت کے نام پر قتل کو متکبرانہ عمل سمجھا جائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

by sohail
ستمبر 4, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
1
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی  فائز عیسیٰ نے غیرت کے نام پر قتل کے کیس کے فیصلے میں قرآن کریم کی روشنی میں خواتین کے حقوق اور غیرت کے نام پر قتل کرنے کے جرم کے حوالے سے انتہائی اہم آبزرویشنز دی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے معاشرے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات سے لا علم افراد کے سامنے غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کی سماجی حیثیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے آبزرویشن دی ہے کہ ایسی غیرت کو انگریزی میں Honour  لکھنا نامناسب ہے، اس سے زیادہ مناسب لفظ تکبر ہے اور تکبر کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ محمد عباس نامی ملزم کی جیل پٹیشن پر دیا ہے جس نے اپنی اہلیہ کو قتل کرنے پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر رکھا تھا۔ 

ہائی کورٹ نے نجی عدالت کے سزائے موت کے فیصلے کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ غیرت کے نام پر قتل کرنے کے حوالے سے 14  صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں دورکنی بینچ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ کیس کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غیرت کے نام پر زیادہ قتل کیے جاتے ہیں اور جن میں متاثرین زیادہ تر خواتین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قتل کی بنیاد غیرت بتانے سے قاتل کو یہ امید ہوتی ہے کہ وہ جرم کا کوئی جواز پیش کرے جبکہ معاشرے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات سے لا علم افراد کے سامنے ایسے قاتل کی سماجی حیثیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے  جو کہ ایک بدقسمتی کی بات ہے کیونکہ قتل کرنا غیرت یا عزت کا معاملہ نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو غیرت کے نام پر قتل کے معاملے پر بجا طور پر تشویش لاحق تھی اور اسے ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی۔

انہوں نے مزید لکھا کہ پارلیمنٹ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے والا مجرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302(c)   سے فائدہ حاصل نہ کر سکے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 25 سال ہے۔ پارلیمنٹ نے تعین کیا کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے والے مجرم کی سزا دفعہ 302 کی شق a اور b کے تحت ہوگی جس کی سزا موت یا پھر عمر قید ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلا م ہے اورسورۃ النساء اور سورۃ المائدہ کی آیا ت کے مطابق کسی شخص کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے جبکہ  اللہ تعالیٰ نے سورہ النور اور سورہ النساء میں بھی زنا کے گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر درخواست گزار کو اپنی اہلیہ پر شک تھا تو اسے قرآن اور پاکستان کے قانون کے تحت معاملے کا حل نکالنا چاہیے تھا  مگر مسلمان ہونے کے دعوے دار ملزم نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی نہیں کی اور قتل کرنے کے حوالے سے بیان دیا کہ اپنی اہلیہ کو غیر مرد کے ساتھ دیکھ کر غیرت کے نام پر قتل کردیا جو کہ غیر شرعی اور مجرمانہ عمل ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص پسندیدہ ہے جو اپنے غصہ کو قابو میں رکھے اور غصہ میں آنا کوئی پسندیدہ خصلت ہے اور نہ ہی غیرت ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیرت  کا لفظ قرآن میں ہے اور نہ ہی زنا کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ایسے قاتل کی سزا بھی کم نہیں ہے اور پاکستان کا قانون غیرت کے نام پر قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ قتل کرنا کوئی قابل احترام عمل ہے اور نہ ہی قتل کو ایسی کسی درجہ بندی میں شمار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ اگر قتل کے جواز کے لیے غیرت کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے  تو اس طرح جرم کو روکنے میں مدد ملے گی، غیرت کے لیے انگریزی زبان میں کوئی اصطلاح  موجود نہیں ہے جبکہ اس طرح کی غیرت کو تکبر کہنا مناسب ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ پاکستانی معاشرہ انتہا پسندی اور تشدد کی شدید لپیٹ میں آچکا ہے جبکہ خواتین سے متعلق جرائم نہ ہونے کو یقینی بناننے کے لییے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ جب خواتین کی حفاظت کرنے کی بجائے انہیں غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے تو پورا خاندان تباہ ہوجاتا ہے۔

sohail

sohail

Next Post

ساجد گوندل کو پیر تک بازیاب کرایا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم

بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 40 لاکھ سے زائد ہو گئی

حکومتی دعوے غلط ثابت، گردشی قرضوں میں تقریباً ڈیڑھ ارب روپے روزانہ کا اضافہ

وزیراعظم کا کراچی کے لیے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان

ہوائی جہاز کی مسافر خاتون طیارے کے پر پہ چہل قدمی کرنے لگی

Comments 1

  1. ظریف احمد says:
    6 سال ago

    محترم جسٹس فائز عیسی صاحب کا یہ ایک عمدہ فیصلہ ہے، غیرت کے نام پر جو عورتوں اور بچیوں کا خون روا رکھا جاتا ہے اسکے روک تھام کی سبیل پیدا ہوگی، انہیں لائنوں پر مذہبی معاملات کے فیصلے بھی نبٹائے جانے چاہئیں، جو کام الله کے کرنے کے ہیں انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر اس دنیا کو نقد جہنم بنا دیا گیا

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In