نیوزی لینڈ میں 24 مئی کے بعد کورونا سے ہونے والی پہلی ہلاکت سامنے آئی ہے، مڈل مور اسپتال میں داخل 50 سالہ مریض کورونا کے ہاتھوں موت کا شکار ہو گیا ہے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد اسے علاج کے لیے اسپتال داخل کر دیا گیا تھا، حالت بگڑنے پر مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بھیج دیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ ایشلے بلوم فیلڈ نے کہا ہے کہ اس واقعے سے نیوزی لینڈ میں تشویش پھیل گئی ہے جس کا ہمیں احساس ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث مزید اموات بھی واقع ہو سکتی ہیں تاہم ہم یقین دلاتے ہیں کہ صحت کے حکام وائرس پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایشلے کا کہنا تھا کہ آج کی خبر اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ کورونا کے خلاف ہمیں مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ اس وبا کے سلسلے کو پھیلنے سے روکا جا سکے اور اموات سے بچا جا سکے۔
نیوزی لینڈ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے درمیان کورونا کے 5 نئے مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے 2 افراد حال ہی میں بھارت سے لوٹے ہیں، ملک میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 1764 ہو گئی ہے جن میں سے 1630 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 جون کو وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے ملک کو کورونا سے آزاد قرار دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن کی سختیاں نرم کر دی گئی تھیں اور کاروبار کھل گئے تھے۔
11 اگست کو کورونا وبا کی دوسری لہر نمودار ہوئی جو ابھی تک جاری ہے۔