سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم وسیم عباس کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ملزم کے وکیل سے دلچسپ مکالمہ ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے سامنے جب وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ محرم کی وجہ سے کیس کی تیاری نہیں کر سکے لہٰذا وقت دیا جائے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلچسپ انداز میں کہا کہ دکان کے دروازے پر لکھا ہوتا ہے ادهار مانگ کر شرمندہ نہ ہوں، ہم بھی کہتے ہیں ایڈجسمنٹ مانگ کر شرمندہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اگر ملزم بے قصور ہے تو جلدی جیل سے باہر آئے۔
سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وسیم عباس پر 8 ملزمان کے ساتھ مل کر وحید انجم کو قتل کرنے کا الزام ہے، وسیم عباس نے بارہ بور بندوق سے وحید انجم کے سر پر فائر کیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ واقعے میں اتنے لوگ فائرنگ کر رہے تھے، کیا پتا کس کی گولی مقتول کو لگی۔
ملزم کے وکیل نے کہا کہ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کو راضی نامے کی بنیاد پر چھوڑ دیا گیا، ایف آئی آر میں فائر بندق کا بتایا گیا جبکہ ملزم سے پستول برآمد ہوا۔
لاہور ہائی کورٹ نے ملزم وسیم عباس کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے کیس سماعت کے لیے منظور کر لیا۔