احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کی اہلیہ، بیٹی اور داماد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے نصرت شہباز اور رابعہ عمران کے قابل ضمانت جبکہ شہبازشریف کے داماد ہارون یوسف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
عدالت نے ہارون یوسف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ سلمان شہباز کے ناقابل وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے دفتر خارجہ کو ان پر عمل درآمد کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے کیس کی سماعت کی، نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر عثمان راشد چیمہ اور شہباز شریف کی طرف سے ان کے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے حمزہ شہباز اور جویریہ علی کو ایک دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا تو نیب کے وکیل نے کہا کہ ملزم تاخیری حربے اختیار کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے دوران سماعت مقدمے کو سیاسی قرار دیا اور پنجاب کے عوام کی خدمت کرنے کی بات کی تو عدالت نے انہیں کہا کہ فوجداری مقدمات میں یہ سب کہنے کی ضرورت نہیں، جب آخر میں بیان ریکارڈ کیا گیا تھا تو اس وقت آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔
اس پر شہبازشریف نے کہا کہ جو آپ حکم کریں، اس پر جج جواد الحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ حکم کی نہیں بلکہ قانون کی بات ہے۔
عدالت سے باہر مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطااللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر کو کرہ ارض کا سب سے جھوٹا انسان قرار دیا۔
انہوں نے حمزہ شہباز کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق بھی کی اور کہا کہ ہم نے پہلے چیف سیکرٹری اور بعد ازاں آئی جی جیل خانہ جات سے درخواست کی ہے کہ حمزہ شہباز کو اسپتال منتقل کیا جائے مگر ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔