پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اقلیت اور جبری مذہب تبدیلی سے متعلق اجلاس میں چئیرمین قومی کمیشن برائے اقلیت نے انکشاف کیا ہے کہ جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کے واقعات پیش آ رہے ہیں جن سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ غیر مسلم لڑکوں کو مذہب تبدیل کرتے کم دیکھا ہےمگر لڑکیوں کے حوالے سے اس نوعیت کے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن نے کہا کہ میرپور ماتھیلو میں ایک یتیم بچی کا زبردستی مذہب تبدیل کرایا گیا ہے، کل اس لڑکی کو پولیس کی نگرانی میں کورٹ لاکر بیان دلوایا گیا ہے، میرپور ماتھیلو کے ایس ایس پی کو بلایا جائے۔
ایم این اے رمیش کمار لال نے کہا کہ ہمیں پہلے مذہب تبدیلی کا قانون بنانا ہو گا، جب جبری مذہب تبدیلی کا قانون بن جائے گا تو اس سے ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر موجود ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کی جاتی ہے، واپس آنے والی لڑکیوں سے ملاقات میں واضح ہوا کہ ان کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔
کمیٹی میں بریفنگ کے دوران وزارت انسانی حقوق حکام نے بتایا کہ اسلام آباد میں جبری مذہب تبدیلی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ مارچ 2019 میں صائمہ اقبال نے اسلام قبول کیا تھا، پہلے مقامی عدالت میں انہوں نے بیان دیا اور بعد میں اسے واپس لے لیا تھا۔۔ اس کیس میں خالد ستّی نامی شخص کو چالان کیا گیا جو عدالت سے بری ہو گیا۔
رکن قومی اسمبلی شنیلہ رتھ نے کہا کہ صائمہ اقبال کا مذہب جبراً تبدیل کرایا گیا تھا، خالد ستّی غریب خواتین کو جھانسا دے کر اس قسم کی حرکات کرتا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد نے خالد ستّی کے بری ہونے پر کہا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ عدالت نے اسے بری کر دیا ہے۔
سیکریٹری انسانی حقوق نے کمیٹی کو بتایا کہ روبینہ اور ریما کے کیس کی ہم نے مکمل نگرانی کی، دونوں لڑکیوں سے میں نے ملاقات کی، انھوں نے مہندی لگائی تھی اور بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں لڑکیوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ کم عمر ہیں لیکن میں نے ملاقات میں دیکھا کہ وہ بڑی ہیں۔ ان کے دو میڈیکل ہوئے جن میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی عمر پوری تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال بعد ڈی سی او کے ذریعے لڑکیوں کے گھر چھاپا مارا کہ لڑکیاں کیسی ہیں۔ ویڈیو موجود ہے کہ دونوں لڑکیاں اپنے گھر میں خوش ہیں۔ لڑکیوں کی کمیٹی میں طلبی سے انکی پرائیویسی کا مسئلہ بھی آ سکتا ہے۔
اس پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن نے کہا کہ آپ نے لڑکیوں کی عمر کا اندازہ ان کی شکل دیکھ کر کیسے کیا، ان کی ویڈیو تو ڈی سی او نے بنائی، ایسی ویڈیو تو میاں مٹھو بھی بنوا لیتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہم جبری مذہب تبدیلی کی شکار لڑکیوں کو بلا سکتے ہیں ، اور ان سے ان کیمرا ملاقات کی جا سکتی ہے، اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی ہم نے رائے طلب کر رکھی ہے۔
ایم این اے کیشو مل کیلداس کوہستانی نے کہا کہ جب سے ہماری کمیٹی قائم ہوئی ہے، جبری مذہب تبدیلی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، سندھ میں جبری مذہب تبدیلی کے ہفتے میں ایک دو واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ اگر ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرتی تو کیا فائدہ ، ہم پر بہت دباؤ ہے۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے اس موقع پر کہا کہ اسلام میں مذہبی کی جبری تبدیلی کا کوئی تصور نہیں۔ ایسے واقعات میں میاں مٹھو کا نام کافی بار سامنے آتا ہے، انہیں کمیٹی کے اجلاس میں طلب کیا جائے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ جبری مذہب تبدیلی سے متاثرہ لڑکیوں کو کمیٹی اجلاس میں بلا کر سنا جائے، انہوں نے مولانا طارق جمیل کو بھی کمیٹی میں بلانے کی تجویز دی۔
علی محمد خان نے کہا کہ کمیٹی میں چند علماء کا نام خصوصی طور پر شامل کیا گیا تاہم وہ اجلاس میں نہیں آتے، انہیں یہاں آنا چاہیے، اگر کمیٹی کوئی فیصلہ کرتی ہے تو پھر چیخ و پکار کی جائے گی، وفاق المدارس کے سربراہ کو بھی جبری مذہب تبدیلی کے معاملے پر کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا جائے۔
سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ صرف آئی جی پولیس کو اجلاس میں طلب کیا جائے، جو کام میاں مٹھو کر رہا ہے کیا پولیس کو اس کا علم نہیں؟ میاں مٹھو لے خلاف فساد فی الارض کی دفعات کے تحت پرچہ ہونا چاہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ آئی جی پولیس سندھ کو اجلاس میں طلب کرکے 15 روز کی مہلت دی جائے کہ وہ جبری مذہب تبدیلی کے واقعات دیکھیں۔
بعد ازاں کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں آئی جی پولیس سندھ کو طلب کر لیا۔
چئیرمین قومی کمیشن برائے اقلیت نے بتایا کہ جن بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات ہو رہے ہیں ان کی عمریں 14، 15 سال ہیں، انہیں شاپنگ سینٹرز، اسکول سے اغوا کرکے ریپ کیا جاتا ہے اور بعد عدالت کا سہارا لے کر پیش کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے باہر 40، 50 افراد کو کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ججز اور انتظامیہ سب ایسے کیسز میں خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے بیٹیوں کو سکولز سے روک کر گھر میں بٹھا کر رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں میاں مٹھو، اور اب ایوب جان سرہندی لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی کرا رہا ہے، انہوں نے سوال پوچھا کہ مذہب تبدیلی کر کے کسی کو بیٹی، بہن کیوں نہیں بنایا جاتا، ہمیشہ بیوی ہی کیوں بنایا جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی کی شکار لڑکیوں کا ڈیٹا اکھٹا کریں اور پھر دیکھیں کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے، جبری مذہب تبدیلی کی شکار بچیوں کے والدین سے ملیں۔
اس پر چیرمین کمیٹی انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ کمیٹی اس حوالے سے انتہائی اقدامات اٹھائے گی۔